0

وزیراعظم عمران خان نے دو مرتبہ فروغ نسیم کو کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ وہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرموں کے لیے پھانسی کی سزا چاہتے ہیں۔۔۔۔ مگر رکاوٹ کہاں پر ہے ؟ حیران کن خبر آگئی

لاہور (نیوز ڈیسک) گزشتہ ہفتے ہنگو کی ایک سات سالہ معصوم بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد پہلے چاقو کے وار سے قتل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بعد میں اُسے گولیاں برسا کر قتل کر دیا گیا۔اس واقعے کا حوالہ دے کر سوشل میڈیا پر کسی نے پیپلز پارٹی اورنامور کالم نگار انصار عباسی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دیسی لبرلز کے ایک مخصوص طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ ہنگو کی اس بچی کے ماں باپ اور خاندان کو جاکر سمجھائیں کہ اُن کی بچی کے ساتھ زیادتی کرنے اور پھر اُسے درندگی کے ساتھ جان سے مارنے والے کے بھی کچھ انسانی حقوق ہیں، جس کی وجہ سے اُسے سرِعام پھانسی نہیں دی جا سکتی۔اور یہ بھی کہ اگر اُسے سرِعام پھانسی دی تو یہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی بلکہ ’’تہذیب یافتہ دنیا‘‘ بھی ہمارے بارے میں کہے گی کہ یہ کیسے لوگ ہیں۔یعنی جن درندوں نے مدیحہ اور اس جیسی دوسری کئی معصوم بچیوں اور بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا اور اُنہیں قتل بھی کیا، اُنہیں نشانِ عبرت نہ بنایا جائے کیونکہ اگر اُنہیں سرعام لٹکایا گیا تو اس سے دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچے گی کہ پاکستان میں انسانی حقوق پر عمل نہیں کیا جا رہا۔حال ہی میں جب قومی اسمبلی نے ایسے درندوں کو سرِعام پھانسی دینے کی قرارداد پیش کی تو پیپلز پارٹی کے رکنِ قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے یورپی یونین کے قوانین کی بات کی جبکہ دو حکومتی وزرا‘ فواد چوہدری اور ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی انسانی حقوق اور مغرب کی تہذیب کا حوالہ دے کر اس اقدام کو ردّ کیا۔ہنگو کی بچی کے ساتھ درندگی کا واقعہ قومی اسمبلی کی طرف سے پاس کی گئی قرارداد کے بعد رونما ہوا۔ سوشل میڈیا کے مطابق

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں