0

ایس ایس پی مفخر عدیل پیش ہوا مگر اسے گرفتار نہ کیا گیا ، آخر کیوں ؟ ایک اور حیران کن حقیقت سامنے آ گئی

لاہور (ویب ڈیسک) سابق اسسٹنٹ اٹارنی جنرل پنجاب شہباز احمد تتلہ ایڈووکیٹ اور ایس ایس پی مفخر عدیل کے لاپتہ کیس میں پولیس کی غیر سنجیدگی، تاخیری حربوں اور عدم ثبوت کی وجہ سے معاملہ الجھ کر رہ گیا ہے۔ پولیس حکام نے ایس ایس پی مفخر عدیل کو تفتیش کے دوران شک ہونے پربھی حراست میں نہ لیا۔ دو بار اعلی حکام کے سامنے پیش ہونے کے بعد ایس ایس پی مفخر عدیل نے جائے وقوعہ کو پانی کا سرکاری ٹینکر بلوا کر دھلوا ڈالا اور ثبوت مٹا دیے۔ اعلی حکام ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ ایس ایس پی مفخر عدیل فرار ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق آلہ قتل اور لاش نہ ملنے پر کیس کمزور پڑنے لگا ہے۔ گرفتار اسد بھٹی کے بیان کو ثابت کرنے کے لئے شواہد کی عدم موجودگی آڑے آگئی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، منشیات کے باعث جھگڑے سمیت مختلف وجوہات سامنے آرہی ہیں جبکہ پولیس نے معاملے کے حقائق بتانے کی بجائے چپ سادھ لی ہے۔ قتل کیس کی تفتیش سے زیادہ حکام کو محکمہ کی ساکھ بچانے کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ دوسری جانب پولیس نے مفرور ایس ایس پی مفخر عدیل کی دو بیویوں (سابق اور موجودہ) کو بھی پوچھ گچھ کے لئے حراست میں لے لیا ہے۔ علاوہ ازیں شہباز تتلہ اغواء کیس میں زیر حراست ملزم اسد بھٹی کے بیان کے بعد گھر سے شواہد نہ ملنے پر پولیس نے عملی تجربہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسد بھٹی نے شہباز تتلہ کی لاش کو تیزاب میں تلف کرنے کا بیان دیا تھا۔ جس پر پولیس عملی طور پر جانور کے گوشت پر تیزاب ڈال کر عملی تجربہ کریگی۔ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم اسد بھٹی نے تیزاب کے ڈرم عرفان نامی شخص سے منگوانے کا انکشاف بھی کیا، عرفان ایس ایس پی مفخر عدیل کی تیسری بیوی کا ملازم ہے۔ علاوہ ازیں ایس ایس پی مفخر عدیل کا 14 فروری کو ہونے والے تبادلے کو منظرعام پر نہیں لایا گیا، 14 فروری کو انہیں سنٹرل پولیس آفس کلوز کرنے کے باوجو تبادلہ دبائے رکھا گیا۔ آئی جی پنجاب نے 14 فروری کو بٹالین کمانڈر ون مفخر عدیل کو ان کے عہدے سے ہٹا کر سنٹرل پولیس آفس پنجاب لاہور رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے تھے اور محبوب رشید بٹالین کمانڈر فور کو بٹالین کمانڈر ون کا بھی اضافی چارج دے دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں