0

گیس اور تیل کی مصنوعات پر ٹیکسوں سے عمران حکومت نے کتنا پیسا اکٹھا کیا ؟ حیران کن اعداد وشمار سامنے آگئے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومت نے مقامی پیداوار میں 10 فیصد اور درآمدات میں 20 فیصد کمی کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں گیس اور تیل کی اہم مصنوعات پر گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے 43.7 فیصد زائد ریونیو حاصل ہونے کا اندازہ لگایا ہے. وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ 6 ماہ کے دوران (جولائی تا دسمبر 2019) تیل اور گیس کی 7 اہم مصنوعات سے مجموعی طور پر 2 کھرب 5 ارب روپے رینیو اکٹھا ہوا جو 2018 کے اسی عرصے میں اکٹھا ہونے والے ایک کھرب 51 ارب روپے سے 35 فیصد زائد ہے. رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزارت توانائی کے حکام نے بھی رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے طور پر تیل کی مصنوعات سے ایک کھرب 60 ارب روپے اکٹھا کیے جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران حاصل ہونے والے ایک کھرب 3 ارب روپے سے 55 فیصد زائد ہے.اس طرح جولائی تا دسمبر 2019 کے دوران صرف ان 8 چیزوں سے مجموعی طور پر 3 کھرب 65 ارب روپے تک ریونیو اکٹھا ہوا جبکہ جولائی تا دسمبر 2018 یہ رقم 2 کھرب 54 ارب روپے تھی یعنی اس میں 43.7 فیصد کا اضافہ ہوا یوں تیل اور گیس سیکٹر ملک کے ریونیو میں سب سے بڑا شراکت دار بن گیا. ایک اندازے کے مطابق ریونیو میں اس اضافے کی 3 اہم وجوہات میں متعدد ٹیکس کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ، قانونی پیچیدگیوں کو دور کیا جانا اور بین الاقوامی قیمتوں کی بلند سطح شامل ہے اس تخمینے میں تیل اور گیس کے ذریعے صوبائی سطح پر اکٹھا ہونے والا ٹیکس اور تیل کی مصنوعات میں قدر کے اضافے سے پیدا ہونے والا ٹیکس شامل نہیں.مثال کے طور پر توانائی کی پیداوار تقریباً 70 فیصد فرنس آئل، مائع قدرتی گیس(ایل این جی) پر انحصار کرتی ہے، مزید یہ کہ صارفین کو قدرتی گیس اور ایل این جی کی فروخت سے حاصل ہونے والا ریونیو بھی اس تخمینے میں شامل نہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں