0

رجب طیب ادرگان کا کامیاب دورہ پاکستان مگر وزیراعظم عمران خان دورے کے دوران کونسی بڑی غلطی کر بیٹھے؟ جان کر آپ کو بھی حیرت ہوگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردوان نے دو روزہ دورہ پاکستان کیا اور واپس روانہ ہوگئے۔ 2روزہ دورے کے دوران ترک صدر کا پر تپاک استقبال کیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے خود گاڑی ڈرائیو کی، گارڈ آف آنر دیا گیا، ایوان صدر میں عشائیہ دیا گیا،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ہوا، ترک وزراء کی اپنے پاکستانی ہم منصبوں سے ملاقاتیں ہوئیں لیکن اس دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان ایک بڑی غلطی کر گئے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان دو روز تک پاکستان میں رہے، ترک صدر اور ان کے ساتھ آنے والے وفود کی حکومتی سطح پر تو ملاقاتیں ہوئیں لیکن کسی اپوزیشن رہنما سے ترک صدر کی ملاقات نہیں کروائی گئی، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے جب ترک صدر نے خطاب کیا تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین بشمول بلاول زرداری، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی، مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود، مولانا عبدالغفور حیدری سب موجود تھے لیکن ایوان میں ترک صدر آئے، خطاب کیا بعد ازاں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے ایوان صدر چلے گئے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاک ترک بزنس کونسل کی تقریب سے بھی خطاب کیا، بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے ون ٹو ون ملاقات بھی ہوئی، 12 اہم معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے سیاحت کے شعبہ میں ترک صدر کو سرمایہ کرنے کی دعوت دی،ترک صدر کی اہلیہ نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ ترک صدرسے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی ملاقات اور مصافحہ نہ ہونے پر جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت نے قومی قیادت اور پارٹی قائدین کو طیب اردگان سے ملنے کا موقع نہ دیکر تعصب اور تنگ نظری کا مظاہرہ کیاحالانکہ یہ قومی روایت ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد معزز مہمان سے قومی قائدین اور پارٹی قیادت کا باقاعدہ تعارف اور مصافحہ جاتا ہے۔حکومت کو خطرہ تھا کہ کوئی اس کی نااہلی اور کرپشن کو بے نقاب نہ کر دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں