0

ایران مخالف اختیار کو کم کرنے کی کوشش نہ کی جائے … ٹرمپ نے دو ٹوک پیغام دے دیا ،جانئے

واشنگٹن (ویب ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹ سے کہا ہے کہ وہ ان کے ایران کے خلاف جنگ کی اجازت دینے کے اختیار کو محدود کرنے سے متعلق قرارداد کو منظور نہ کرے۔صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اس قرارداد کی منظوری سے ایران کو ایک بہت برا اشارہ جائے گا اور وہ کسی استثنی کے بغیر اقدامات کرتا رہے گا۔ٹویٹ کے مطابق یہ ہمارے ملک کی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے کہ امریکی سینیٹ ایران جنگ اختیارات سے متعلق قرارداد کے حق میں ووٹ نہ دے، ہم ایران کے ساتھ بہت اچھاکررہے ہیں، یہ کمزوری دکھانے کا وقت نہیں ہے۔واضح رہے کہ ڈیمو کریٹس نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ انھیں ری پبلکن پارٹی کی بالادستی کے حامل ایوان کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے قرارداد کی منظوری دینا ہوگی۔مزید پڑھئیے :: ریاض(ویب ڈیسک ) سوشل میڈیا پر ایک سعودی بزرگ دُکاندار کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں اُس نے یہ گلہ کیا ہے کہ غیر مُلکی ڈسٹری بیوٹرز سعودیوں کو سامان اُدھار نہیں دیتے، جبکہ اس کے مقابلے میں کسی بھی غیر مُلکی کو اُس کی ضرورت سے زیادہ سامان بھی اُدھار پر دے دیتے ہیں۔ اُردو نیوز کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ”معمر سعودی نے اپنی ویڈیو میں یہ شکوہ کیا ہے کہ ’میرے جنرل سٹور میں سامان بہت کم ہے۔ڈسٹری بیوٹرز کمپنیاں مجھ پر اعتبار نہیں کرتیں کیونکہ میں نے نیا بقالہ (جنرل سٹور) کھولا ہے۔ غیر مُلکی کسی سعودی کو سامان اُدھار دیتے ہی نہیں۔ جبکہ اپنے غیر مُلکی بھائیوں کو بھاری مالیت کا سامان بھی اُدھار دے دیتے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ کمپنیاں ادھار پر سامان اس صورت میں دیتی ہیں جب غیر ملکی بقالہ چلا رہا ہو۔ہم سعودیوں کے ساتھ ان کا رویہ مختلف ہے۔سوشل میڈیا پرمعمر سعودی دکاندار کی وڈیو تیزی سے وائرل ہوئی ہے۔ کئی شخصیات نے چاچا ابو سلمان سے ہمدردی کا اظہار کیا اور مقامی کمپنیوں کو ترغیب دی کہ وہ چاچا ابو سلمان کو ادھار پر سامان فراہم کریں۔دیکھتے ہی دیکھتے چاچا ابو سلمان کو ترغیبات کے ساتھ تجارتی پیش کشیں موصول ہونے لگیں۔ بعض تاجروں نے انہیں مفت سامان فراہم کیا ہے۔کئی کمپنیوں نے چاچا ابو سلمان سے کہا کہ وہ بہت سارا سامان مفت فراہم کریں گی۔دیگر کمپنیوں نے وعدہ کیا کہ وہ ادھار پر سامان مہیا کریں گی۔ ایک کمپنی نے کہا کہ وہ ایک برس تک بقالے کا بجلی بل ادا کرے گی یاد رہے کہ بقالوں (جنرل سٹور) میں زیادہ تر غیر ملکی ہیں۔ انہوں نے سعودیوں کے نام سے بقالے کھولے ہوئے ہیں۔ سالہا سال سے سعودی عرب کے بقالے غیر ملکیوں ہی سے منسوب ہو گئے ہیں۔ سعودی شہری بقالوں کے کاروبار میں دخل نہیں دیتے۔ اب صورت حال بدلنے لگی ہے دیگر شعبوں کی طرح بقالوں کے کاروبار میں بھی سعودی شہری قدم رکھنے لگے ہیں۔ چاچا ابو سلمان اس کی ایک مثال ہے۔سعودی صارفین نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ بقالوں پر غیر مُلکیوں کی اجارہ داری ہے۔ ایسے میں ہمیں اس معمر سعودی دُکاندار کی مدد کرنا انتہائی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں