115

جھاڑو پارٹی کا جھاڑو اور مودی سرکار

برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے نریندر مودی کی مسلم مخالف پالیسیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ سال بھارت نے اپنا قانون بدلا جس میں مسلمانوں کے علاوہ برصغیر میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کو شہریت دینے کا اعلان کیا۔بھارت نے اپنی ایک ارب سے زائد آبادی کو رجسٹرڈ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے لیکن بھارت کے 200 ملین مسلمان اپنی بھارتی شہریت ثابت کرنے کے لیے کاغذات نہیں رکھتے۔ بھارتی شہریت نہ رکھنے والے شہریوں کے لیے حراستی کیمپ بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

بی جے پی کی متنازع پالیسیوں کی وجہ سے ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔ طلباء، سیکولرز یہاں تک کہ بھارتی میڈیا نے بھی نریندر مودی کے خلاف بولنا شروع کر دیا ہے۔بھارتی وزیراعظم کثیر المذہبی گروہ والے ہندوستان کو صرف ہندو ریاست بنانے کے لئے عمل پیرا ہیں، بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسیاں کئی سال پرانی ہیں۔ بھارتیا جنتا پارٹی نے پہلے ایودھیا میں بابری مسجد شہید کر کے رام مندر تعمیر کرنے کا اعلان کیا تو یہ جماعت پورے ملک میں مشہور ہو گئی۔اکانومسٹ کے مطابق بابری مسجد کی شہادت اور 2002ء میں مسلم کش فسادات نے اس وقت کے وزیراعلیٰ مودی کو ہندو انتہا پسندوں کا ہیرو بنا دیا۔اسی طرح مودی سرکار نے مقبوضہ  کشمیر  میں دہائیوں سے جاری جبر و استبداد کو کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مسئلہ کشمیرسب سے پُرانا مسئلہ ہے جو کہ اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک اپنے منطقی حل کا منتظر ہے اور اسے حل نہ کرنے میں دُنیا اپنے مفادات دیکھ رہی ہے جو کہ بھارت سے وابستہ ہیں تاہم انسانیت اور مفادات اکٹھے نہیں چل سکتے۔ بھارت کے سنجیدہ اور حقیقت پسند تجزیہ کار بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ریاستی تسلط سے تیزی سے نکلا جا رہا ہے اور مودی کا کشمیریوں پر ریاستی جبر وتشدد خود بھارتی سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے لیکن مودی اپنے کٹر بنیاد پرستانہ اور ہندو انتہاپسندانہ پالیسیوں پر گامزن ہے۔

انڈیا کے ممتاز دانشور بھانو پرتاپ مہتا کہتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی نظروں کے سامنے کشمیر پستی کے غار میں ڈوبا جا رہا ہے۔ ایک عام انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ چار ماہ سے نافذ کرفیو میں قید کشمیری جب کرفیو اُٹھے گا تو کیا حشر برپا کریں گے۔ کشمیری جو کرفیو کی پابندیاں توڑ کر رہے ہیں، تو جب کرفیو اُٹھے تو پھر کیا حالات ہوں گے یقینا حشر نشر ہو گا۔ راہول گاندھی برملا کہہ رہے ہیں کہ مودی کشمیر کو غلط طریقے سے ہینڈل کر رہے ہیں اور کشمیر کو بھارت کی کمزوری بنا رہے ہیں۔ مارک ورشک منڈل کے رُکن اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کا تجزیہ اور آپ بیتی اس سے بھی خطرناک ہے۔

ستمبر 1998ءمیں ڈربن میں غیروابستہ ممالک کی تحریک کا سربراہ اجلاس ہوا۔ اس کا افتتاح جدید تاریخ کے حریت فکر کے عالمی رہنما نیلسن منڈیلا نے کیا تھا۔ اجلاس میں بھارتی سابق وزیراعظم واجپائی بھی موجود تھے۔ کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو اور اُس وقت کے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کوفی عنان بھی موجود تھے تو نیلسن منڈیلا اپنے خطاب میں کشمیر کا ذکر کیے بغیر نہ رہ سکے اور کہا کہ ”غیروابستہ ممالک کی یہ تحریک (NAM) دہائیوں سے جاری  مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں بھرپور معاونت کرے گی“۔

اس بیان پر بھارتی حکومت نے بہت واویلا کیا تاہم واجپائی خاموش رہے۔تاہم  واجپائی نے ایک جملہ بولا تھا کہ ”کشمیر کے مسئلے کو انسانیت کے دائرے میں حل کیا جائے گا“۔ کیا یہ ہی انسانیت ہے کہ 80لاکھ کشمیریوں کو دُنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید کر دیا جائے۔ کیا دُنیا کا کوئی انسان اس کا جواب دے سکتا ہے کہ وہ چار ماہ سے قید ہیں، کہاں سے کھا رہے ہیں؟ کیا اُن کے پاس راشن ہے؟ کیا کپڑے دھونے کے لیے صابن، سرف ہے؟ بچوں کے لیے دودھ کہاں سے آئے گا؟ ضروریاتِ زندگی کی دوسری اشیاءکہاں سے آئیں گی جبکہ راستے مکمل بند کر کے رسد بند کر دی گئی ہے۔

مودی کی ان مسلم کش پالیسیوں کے بدلے میں نئی دہلی کے انتخابات میں مسلمان ووٹرز نے مودی سرکار کی پالیسیوں کو ٹھکرا دیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کی اسمبلی کے انتخابات کے غیر حتمی اورغیر سرکاری ابتدائی نتائج کے تحت دہلی کی حکمراں جماعت عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے62 نشستیں حاصل کرکے میدان مارلیا اورمودی سرکارکے غرورکو دھول چٹا دی۔ ملک کی حکمراں جماعت بی جے پی ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود صرف 8 نشستیں حاصل کر پائی۔بھارتی میڈیا کے مطابق عام آدمی پارٹی 62 نشستیں جیت کر پہلے نمبر پر ہے جبکہ بی جے پی8 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔کانگریس نئی دہلی کے اسمبلی انتخابات میں اس بار بھی کوئی نشست نہیں جیت سکی،2015 میں عام آدمی پارٹی نے 70 میں سے 67 نشستوں پرکامیابی حاصل کی تھی۔

عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پرانتخابات لڑنے والے پانچ مسلمان امیدواراوکھلا سےامانت اللہ خان، بلیماران سے عمران حسین، مٹیا محل سے شعب اقبال، مصطفیٰ آباد سے حاجی محمد یونس اور سیلم پور سے عبدالرحمان کامیاب ہوگئے۔ پانچوں اراکین نے بی جے پی امیدواروں کو شکست دی۔،گزشتہ اسمبلی میں4مسلمان امیدوارکامیاب ہوئے تھے۔دہلی میں حکومت سازی کے لیے سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 36 سیٹیں درکار ہوتی ہیں جب کہ عام آدمی پارٹی نے 63 سیٹیں حاصل کرکے تیسری بار حکومت سازی کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

دہلی کی سیاسی بساط کو الٹنے کے لیے بی جے پی حکومت کے صدر اور وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر اعلیٰ اتر پردیش یوگی سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں نے انتخابی حلقوں میں ڈیرے ڈال دیے تھے اور حکومتی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا تھا جب کہ ہندو ووٹرزکو لبھانے کو لیے اقلیتوں کیخلاف زہراگلا گیا اورنفرت کی فضا پیدا کی ۔اس کے باوجود حکمران جماعت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ مودی سرکار کو اب نوشتہ دیوار کو اچھے طریقے سے پڑھ لینا چاہیئے، اور ا س ناکامی کو عام آدمی پارٹی کا جھاڑو نہیں بلکہ عوامی جھاڑو سمجھا جائے جو کسی بھی وقت مودی سرکار کا صفایا کر سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں