ڈیزل پر46 لیکن پٹرول پر فی لٹر کتنا ٹیکس لیا جارہاہے ؟ وزارت توانائی نے اعتراف کرلیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران متعلقہ وزراءکی عدم موجودگی پر چیئرمین سینیٹ نے اظہار برہمی کیا جبکہ اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاجا کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔وزارت توانائی کی جانب سے سینیٹ کو بتایاگیاہے کہ پیٹرول پر 35روپے 55پیسے جبکہ ڈیزل پر46روپے 28پیسے فی لیٹر ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔منگل کو وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیرپارلیمانی اموراعظم خان سواتی نے ایوان کو بتایا کہ قومی کمیشن برائے انسانی کی ہیلپ لائن پر کل 866010کالیں موصول ہوئیں ،جن میں سے 37618کالیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق تھیں ، تمام شکایات کو دستیاب قوانین کے مطابق نمٹایا گیا‘ گھروں میں کام کرنے والے کم عمر ملازمین سے متعلق سینیٹر مشتاق احمد کے سوال کے جواب اعظم خان سواتی نے ایوان کو بتایا کہ چائلڈ پروٹیکشن کے لیئے نئے قانون بنا رہے ہیں۔اعظم خان سواتی نے ایوان کو بتایا کہ 28اکتوبر 2018سے 23جنوری 2020تک پاکستان سٹیزن پورٹل پر 1711059 شکایتیں موصول ہوئیں ،1557407 شکایات کو ختم کیا گیا ، جبکہ 156352شکایات زیر التوا ہیں ،40فیصد لوگ مطمئن ہوئے ہیں،جنہوں نے وقت پر لوگوں کو ریلیف نہیں کیا ان افسروں کو معطل کیا گیا ہے‘وزیر توانائی نے ایوان کو بتایا کہ اس وقت ملک میں ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 127روپے 26پیسے ہے ، جبکہ فی لیٹر ڈیزل پر 46روپے28پیسے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے ، جبکہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 116روپے 60پیسے ہے جبک، فی لیٹر پیٹرول پر 35روپے 55پیسے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ملکی تعمیرو ترقی کے لئے بجٹ میں مقرر کردہ آمدنی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے پیٹرولیم مصنوعات پرٹیکسز ،لیویز عائد کئے جاتے ہیں ، اس لئے ٹیکسوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں