زیورات کی دکان پکوڑہ سموسہ شاپ میں تبدیل؟ سوشل میڈیا پر طوفان آگیا

لاہور (نیوز ڈیسک) کچھ عرصہ سے پاکستان میں کاروباری برادری بھی مشکلات کا شکار ہے اور عوام کی قوت خریداری میں کمی کی وجہ سے دکاندار حضرات بھی پریشان ہیں ، اب سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چکوال میں سونے کی ایک دکان کا مالک زیوارت کی جگہ پر پکوڑے سموسے بیچنے پر مجبور ہوگیا۔ شعیب شفیع نے لکھا کہ ’چکوال میں سونے کی دکان پکوڑوں میں تبدیل ہوگئی ‘۔سلیم نے لکھا کہ ’’تبدیلی کے ثمرات_ چکوال شہر کے قدیمی چھپڑ بازار میں سونے کی دکان پکوڑوں کی دکان میں تبدیل ہوگئی۔ معروف صراف ممتاز احمد تاج نے کاروبار مند ہونے کے بعد اپنےکئی سالوں سےچلتا ہوا زیورات کا کاروبار ختم کردیا ۔ان کے مطابق کرایہ پر حاصل کی جانےوالی دکان کا کرایہ ادا کرنے کےبھی قابل نہیں رہا تھا‘‘۔عاصم مہر نے لکھا کہ ’’چکوال شہر کے معروف صراف ممتاز احمد نے ڈیڑھ سال میں کاروبار مندہ ہونے کے بعد اپنا کئی سالوں سے چلتا ہوا زیورات کا کاروبار ختم کردیا، ممتاز احمد تاج اب پکوڑے سموسے تیار کرکے چھ سے سات سو روپے کی دیہاڑی لگا رہا ہے اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال رہا ہے۔ اسے کہتے ہیں تبدیلی‘‘۔صادق انور نے لکھا کہ ’’زیورات سے پکوڑے تک، چکوال شہر کے قدیمی چھپڑ بازار میں سونے کی دکان پکوڑوں میں تبدیل ہوگئی۔ شہر کے معروف صراف ممتاز احمد تاج گزشتہ تیس سالوں سے زرگری اور زیورات کی فروخت کا کام کررہا تھا اور خوشحال زندگی بسر کر رہا تھا مگر اب ڈیڑھ سال میں تبدیلی کے ٹھیکیدار نے کنگال کردیا‘‘۔مریم نے لکھا کہ ’’پچھلے 30 سال سے چکوال میں سونے کا کاروبار کرنے والے ممتاز احمد کاروبار کی بدترین صورتحال کے بعد پکوڑوں کی دوکان لگانے پر مجبور ہو گئے.’’فخر درانی نے لکھا کہ ’’ویسے اہلیان چکوال کو بھی بڑے زور کی تبدیلی آئی ہوئی تھی‘‘۔سجاد نے لکھا کہ’’ تبدیلی، چکوال شہر کے قدیمی چھپڑ بازار میں سونے کی دکان پکوڑوں میں تبدیل ہوگئی۔ شہر کے معروف صراف ممتاز احمد تاج گزشتہ تیس سالوں سے زرگری اور زیورات کی فروخت کا کام کررہا تھا اور خوشحال زندگی بسر کر رہا تھا مگر اب ڈیڑھ سال میں اس کیلئے دو وقت کی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے‘‘۔دوسری طرف مقامی اخبار کی ایک خبر کے مطابق چکوال شہر کے قدیمی چھپڑ بازار میں سونے کی دکان پکوڑوں میں تبدیل ہوگئی۔ شہر کے معروف صراف ممتاز احمد تاج نے ڈیڑھ سال کے بعد کاروباری مندہ ہونے کے بعد اپنے کئی سالوں سے چلتا ہوا زیورات اور سونے کا کاروبار ختم کردیا کہ وہ کرایہ پر حاصل کی جانے والی دکان کا کرایہ ادا کرنے کے بھی قابل نہیں رہا تھا۔ ممتاز احمد تاج نے بتایا کہ اب وہ پکوڑے اور سموسے تیار کرکے چھ سے سات سو روپے کی دیہاڑی لگا رہا ہے اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال رہا ہے۔ ممتاز احمد تاج کے مطابق ڈیڑھ قبل سونے کا نرخ چالیس ہزار اور پچاس روپے کے درمیان تھا جو گزشتہ ڈیڑھ سالوں میں یکدم 90سے95ہزار فی تولہ ہوا تو گاہک آنا بھی کم ہوگئے اور انکو جان کے لالے پڑ گئے۔ ممتاز احمد تاج گزشتہ تیس سالوں سے زرگری اور زیورات کی فروخت کا کام کررہا تھا اور خوشحال زندگی بسر کر رہا تھا مگر اب ڈیڑھ سال میں اس کیلئے دو وقت کی روٹی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں