رہائی ملے گی یا نہیں ؟ مریم نواز کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ سے تازہ ترین خبرآگئی

لاہور(ویب ڈیسک)لاہورہائیکورٹ میں مریم نواز کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست سماعت کیلئے مقررکردی گئی ،جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ 18 فروری کو سماعت کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے نام ای سی ایل سے نکالنے اور پاسپورٹ واپسی کیلئے درخواست دائر کررکھی ہے،مریم نواز کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ والد کی طبیعت سخت خراب ہے ،والد علاج کیلئے بیرون ملک ہیں ان کی تیمارداری کیلئے جانے کی اجازت دی جائے،درخواست میں مزید کہاگیاہے کہ حکومت نے غیرقانونی طور پر نام ای سی ایل میں شامل کیا۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ پارٹی صدر شہباز شریف مارچ کے پہلے ہفتے تک پاکستان واپس آ جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق راناثناء اللہ کا موجودہ صورتحال کا واحد حل ہے کہ عوام سے رجوع کیا جائے۔ان حالات میں ضروری ہے کہ مڈٹرم الیکشن کرائے جائیں۔جس انداز میں موجود حکومت معیشت سنبھال رہی ہے اس طرح ملک نہیں چل سکتا۔ لیگی رہنما نے کہا کہ اپوزیشن کی خاموشی کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔آنے والے دنوں میں اپوزیشن مشترکہ طور پر کہے گی کہ مڈٹرم الیکشن ضروری ہیں۔انا ثناءاللہ کا مزید کہنا ہے کہ شہباز شریف مارچ کے پہلے ہفتے تک پاکستان واپس آئیں گے۔شہباز شریف وطن واپس آ کر بھرپور طریقے سے پارٹی کی قیادت کریں گے۔جب کہ دوسری جانب سینئر صحافی عمر چیمہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے قومی حکومت کی آپشن کو اس لئے تسلیم نہیں کیا کیونکہ اس میں کوئی بھی شخص آزادانہ کردار ادا نہیں کر سکتا ۔فوری طور پر انتخابات نہ ہونے کی صورت میں اپوزیشن کے نام پر شہباز شریف نے نواز شریف سے بات چیت کی، جس کے بعد خواجہ آصف کا نام دیا گیا بعدازاں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نام دے دیا۔ شہباز شریف کو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹا کر شاہد خاقان عباسی کو لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حوالے انکے ایک قریبی رشتہ دا فرخ عباسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں