0

گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کئے جانے کا معاملہ ،سارے خدشات دور، ڈارکیلئے اچھی خبر آگئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گھر میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے 10 روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔ اسحاق ڈار کی اہلیہ کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے لاہور کورٹ نے حکم امتناع جاری کیا۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے کیس کی سماعت کی جس کے بعد پنجاب حکومت سے 10 دن میں تفصیلی جواب طلب کیا گیا ہے۔حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ اسحاق ڈار کے گھر کو پناہ گھر میں تبدیل کر دیا گیا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ جہاں اسحاق ڈار سوتے تھے وہاں اب غریب سوئے گا اور جہاں وہ کھانا کھاتے تھے اب وہاں غریب کھانا کھائے گا۔ اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاون لاہور نے اس بارے میں تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ابتدائی طور پر گھر میں 50 لوگوں کے رہنے کا انتظام کیا گیا ہے جس میں 35 مرد اور 15 خواتین رہ سکیں گی۔بعد ازاں ن لیگ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عطا تاڑرکا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں جو کہ ملکی سیاست کے لئے مناسب نہیں ہیں،ہم اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کریں گے ۔انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پناہ گاہ کو غریبوں کے لئے کھول دیا گیا ہے جبکہ لوگوں کو ان کے شناختی کارڈ کے اوپر انٹری دی جا رہی ہے۔ مسافروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مسافر کو مسلسل تین دن رہنے کی اجازت دی جائے گی جس میں اسے صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا فراہم کیا جائے گا۔لیکن اب لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے 10دن میں تفصیلی جواب طلب کیا گیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے اہلیہ اسحاق ڈار کی درخواست پر کیس کی سماعت کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں