سعودی عرب : کفیل کی پابندیوں‌سے آزاد کرنے کے لیے ملازمین کے لیے قانون سازی ، عوام میں خوشی کی لہردوڑ گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سعودی عرب میں کفالہ کا نظام بہت جلد ختم کردیا جائے گا۔اس بات کا انکشاف سعودی گزٹ نے بے نامی ذرائع کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کیا ہے۔کفالہ کے موجودہ نظام کے تحت تارکینِ وطن ورکر اپنے آجروں یا کفیلوں کی وضع کردہ ملازمت کی شرائط کے پابند ہوتے ہیں۔آجر ہی ایسے ملازمین کے ویزے اور قانونی حیثیت کا ذمے دار ہوتا ہے۔نئے قانون کے تحت آجروں اور ایسے غیرملکی تارکین وطن ورکروں کے درمیان تعلق داری محدود ہوکر رہ جائے گی جو تعمیرات کے شعبے میں کام کررہے ہیں یا گھریلو ملازمین کے طور پر کام کرتے ہیں۔سعودی عرب کا یہ نیا اقدام ویژن 2030ء کے تحت رو بہ عمل لائی جانے والی اصلاحات کا حصہ ہے۔اس ویژن کے تحت سعودی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے دور رس نتائج کی حامل متنوع اصلاحات کی جارہی ہیں۔کفالہ نظام کے خاتمےسے تارکین وطن ورکروں کو داخلی اور خارجی ویزے کے حصول میں آزادی حاصل ہوجائے گی۔وہ کسی کفیل کے بغیر اپنے پاسپورٹ پر سعودی عرب سے خروج کے لیے مہر لگواسکیں گے۔ نیز کسی کفیل کی منظوری کے بغیر ملازمت حاصل کر سکیں گے۔اس وقت کفالہ کے تحت کام کرنے والے تارکینِ وطن ورکروں کو اس نظام کے خاتمے سے نقل وحرکت کی بھی آزادی حاصل ہوگی۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں عشروں سے کفالہ نظام نافذ العمل ہے۔اس نظام کے تحت کوئی بھی تارکِ وطن ورکر اپنے کفیل ہی کے ہاں کام کرنے کا پابند ہے اور کفالت کی باضابطہ تحریری طریقے سے منتقلی کے بغیر کسی دوسرے آجر کے ہاں ملازمت نہیں کرسکتا ہے۔اس نظام کو اکثر بے لچک ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔سعودی گزٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’’کفالہ نظام کے نقصانات میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے ویزے کی تجارت کی بلیک مارکیٹ پھلتی پھولی ہے۔‘‘خلیجی عرب ممالک میں 1950ء کے عشرے میں تیل دریافت ہونے کے بعد غیرملکی تارکین وطن کو مختلف شعبوں میں ملازمتیں دینے کی راہیں کھلی تھیں تاکہ وہ ان ممالک کی ترقی کے عمل میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ان ممالک نے تب کفالہ کا نظام متعارف کرایا تھا۔اس وقت سعودی عرب کے علاوہ بحرین ، کویت ، عُمان ، قطر اور متحدہ عرب امارات میں بھی کفالہ کا نظام مروج ہے۔عُمان ، بحرین اور قطر نے ماضی قریب میں اس نظام کے بعض حصوں کی تنسیخ کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ خلیجی عرب ممالک سے باہر اردن اور لبنان میں بھی گھریلو ملازمین کے لیے کفالہ ایسا ہی نظام رائج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں