انا للہ وانا الیہ راجعون بانو قدسیہ کے بعد پاکستان کی سب سے معروف اور معتبر مصنفہ اور ادیبہ بھی انتقال کر گئیں

لاہور (ویب ڈیسک) معروف مصنفہ، ادیبہ محترمہ نثار عزیز بٹ 93 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ نماز جنازہ باغ جناح کی مسجد میں عالم دین ڈاکٹر عارف رشید نے پڑھائی جس میں سینکڑوں سوگوار بھی موجود تھے۔ نماز جنازہ میں سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز، معروف ادیب اصغر ندیم سید، بیرسٹر اویس عزیز،سابق وزیر قانون احمر بلال صوفی، شاہ ریز روکھڑی، سہیل فضل، شاہد سرتاج، سینیٹر عثمان سیف اللہ، امین سکھیرا، عارف ایوب، لیفٹیننٹ کرنل (ر) احمد ندیم قادری، بلال بٹ، ندیم بسرا، شفیق سلطان، قیصر ندیم، حافظ عمران، شیخ مظہر شفیع سمیت مختلف مکاتب کے کثیر افراد نے شرکت کی۔ بعدازاں مرحومہ کی میانی صاحب قبرستان میں تدفین کی گئی۔ ختم قل آج ہفتہ کو دو بجے دوپہر ان کی رہائش گاہ 35 بی میسن روڈ پر ہوگا، دعا 4 بجے ہوگی۔ انہوں نے 4 ناول اور سوانح عمری تحریر کی، ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔نثار عزیز بٹ 1927 میں مردان میں پیدا ہوئیں، میٹرک میں صوبہ بھر میں اول آئیں تو اعلی تعلیم کے لیے اپنے بھائی سرتاج عزیز کے ہمراہ لاہور آگئیں اور پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا، شعبہ ریاضی میں ماسٹر ز کیا اور امتحان میں اول آئیں۔نثار عزیز بٹ نے لکھنا کالج کے زمانے سے ہی شروع کر دیا تھا۔،ان کی تصانیف میں 4 ناول، نگری نگری پھرا مسافر، نے چراغے نے گلے، کاروان وجود اور دریا کے سنگ شامل ہے جبکہ سوانح عمری گئے دنوں کا سراغ نے بھی کافی شہرت پائی۔ادبی حلقوں میں ان کی تحریروں کو بہت سراہا گیا،ان کا پہلا ناول، نگری نگری پھرا مسافر، 1955 میں شائع ہوا، نثار عزیز بٹ کی شادی معروف صحافی، ڈرامہ نویس اصغر بٹ سے ہوئی۔نثار عزیز بٹ کے ناولوں کا موضوع آئیڈیلزم تھا، جبکہ ان کی تحریریں سماجی اور معاشرتی مسائل سے بھی پردہ اٹھاتی ہیں۔ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 14 اگست 1995 کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا، جبکہ مجلس فروغ اردو ادب، دوحا نے انہیں 2013 میں ایوارڈ دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں