ہم پر کیا گزر رہی ہے کچھ احساس ہے آپ کو ۔۔۔۔؟ چین میں پھنسی ایک پاکستانی لڑکی نے حکومت پاکستان اور شہریوں کے نام پیغام بھجوا دیا

ووہان (ویب ڈیسک) چینی شہر ووہان میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد سے کئی ممالک نے اس شہر سے اپنے شہریوں کو نکال لیا ہے۔ سینکڑوں پاکستانی طلبا و طالبات بدستور ووہان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک پاکستانی طالبہ نے بتایا ۔۔۔”میرا نام حلیمہ ہے اور میں ووہان میں گزشتہ چار برسوں سے زیر تعلیم ہوں۔کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد سے ہر کسی کے لیے زندگی مشکل ہو چکی ہے۔ جب ہمیں شہر کی ناکہ بندی کا علم ہوا، تو یہ خبر ہمارے لیے انتہائی حیران کن اور افسوس ناک تھی کیونکہ ووہان کے بارے میں کوئی ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ہمیں اپنے کمروں میں بند رہتے ہوئے آٹھ دن ہو گئے ہیں۔ ہر کوئی باہر نکلنے سے خوفزدہ ہے۔ اس بندش کی وجہ سے ہمیں بہت سری تبدیلیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ایک بڑا مسئلہ کھانے پینے کا بھی ہے۔ ووہان میں چند ہی مارکیٹیں کھلی ہیں، جہاں سے اشیائے خورد و نوش خریدی جا سکتی ہیں۔ مگر پریشانی کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارے گھر سے بہت دور ہیں۔ اس کے علاوہ نہ کوئی ٹیکسیاں چل رہی ہیں اور نہ ہی بسیں جبکہ زیر زمین ٹرینوں کی آمد و رفت بھی بند ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ کسی بھی مقامی مارکیٹ تک صرف پیدل چل کر ہی پہنچا جا سکتا ہے اور یہ بہت خطرناک بات ہے۔ساتھ ہی کسی بھی ہنگامی صورت حال میں کسی ہسپتال کا رخ کرنا بھی ایک مشکل کام ہے کیونکہ تمام ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں اور کوئی ڈرگ سٹور بھی کھلا ہوا نہیں ہے۔ سڑکوں پر بہت ہی کم لوگ دکھائی دیتے ہیں اور زندگی دن بہ دن مشکل ہوتی جا رہی ہے۔شروع میں ہم نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کرنے کی کوشش تو انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چینی حکام کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں