سرمایہ کاروں کے لیے خوشخبری … بھاری فیسوں کو ختم کر دیا گیا ،جانئے

دبئی(نیوز ڈیسک ) ولی عہد دبئی شیخ حمدان بن محمد بن راشد آل مکتوم نے ریاست میں بعض سرکاری خدمات کی فیسیں منسوخ کردیں ہیں۔ حمدان بن محمد نے اپنے ٹویٹ میں بتایا ہے کہ شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کی ہدایات کی تعمیل میں مجلس عاملہ نے دبئی میں بعض سرکاری خدمات کی فیسیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اس فیصلے کی بدولت معاشی لاگت کم ہوگی۔ صنعتی و تجارتی سرگرمیو ںمیں سہولت پیدا ہوگی جبکہ سرمایہ کاروں کی پوزیشن مضبوط ہوگی۔اس سے قبل دبئی حکومت نے اپنے یہاں اقتصادی شرح نمو بہتر بنانے کے لیے متعدد ترغیبات کا اعلان کیا تھا۔ کئی فیسیں معاف کی تھیں اور بعض فیسیں کم کردی تھیں۔دبئی میں 22سرکاری اداروں میں 2356 اقسام کی فیسوں کا جائزہ لیا جاچکا ہے جبکہ تمام سرکاری فیسوں پر نظر ثانی کی جارہی ہے تاکہ عوام کا بوجھ ہلکا کیا جاسکے۔، 34 سالہ ون لیانگ ووہان سینٹرل ہسپتال میں تعینات تھا، ڈاکٹر نے دسمبر کے ماہ میں ہی وائرس کی تشخیص کر لی تھی، مریض سے وائرس منتقل ہونے کے باعث خود بھی جان کی بازی ہار گیا۔ تفصیلات کے مطابق سب سے پہلے خطرناک کورونا وائرس کی تشخیص کرنے والا چینی ڈاکٹر اب خود بھی جان کی بازی ہار گیا ہے۔بتایا ہے کہ 34 سالہ چینی ڈاکٹر ون لیانگ چینی شہر ووہان کے سینٹر ہسپتال میں تعینات تھا اور پچھلے ڈیڑھ ماہ سے مسلسل مریضوں کے علاج میں مصروف تھا۔ ون لیانگ دسمبر کے ماہ میں ہی کورونا وائرس کی تشخیص کر لی تھی اور اس حوالے سے فوری اپنے ساتھی ڈاکٹرز کو مطلع کیا تھا۔تاہم بعد ازاں ون لیانگ کے پیغامات کو سوشل میڈیا پر لیک کر دیا گیا جس کے باعث پورے چین میں افراتفری پھیل گئی۔اس تمام صورتحال میں چینی سیکورٹی اداروں نے ون لیانگ کو طلب کر کے وارننگ دی اور آئندہ اس حوالے سے کوئی بھی بات نہ کرنے کی تلقین کی۔ بعد ازاں ون لیانگ کو وائرس کے حوالے سے کوئی بھی بیان جاری نہ کرنے کیلئے زبردستی دستاویزات بھی سائن کروائی گئیں۔ ون لیانگ اس تمام واقعے کے باوجود مسلسل مریضوں کے علاج میں مصروف تھا، اور اب خود ایک مریض کے باعث کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہوگیا ہے۔جبکہ واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے مزید 73 افراد ہلاک ہو گئے جو گزشتہ ماہ سے پھیلنے والے پراسرار وائرس کے باعث ایک روز میں ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ جاری ہے جب کہ حکومت کی جانب سے وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے نئے اسپتال بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹون کے دوران کورونا وائرس سے 73 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جس میں سے زیادہ تر ہلاکتیں ہوبئی صوبے میں ہوئی ہیں جب کہ تین افراد تیانگ جنگ، ہی لونگ جیانگ اور گوئز ہو میں ہلاک ہوئے۔چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 563 ہو گئی ہے۔چین سے ہابر ہانگ کانگ اور فلپائن میں کورونا وائرس کے باعث 2 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 25 ممالک میں کورونا وائرس پائے جانے کی تصدیق ہو چکی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈ ہینم گبریسس کا کہنا ہے کہ وائرس کی روک تھام کے لیے 67 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم درکار ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ رقم بہت ہے لیکن اگر ہم نے کورونا کی روک تھام کے لیے تیاریاں نہ کیں تو یہ رقم بہت کم ثابت ہو گی۔ڈی جی ڈبلیو ایچ او نے بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث ایک روز میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ افراد کی تعداد 28 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں