مریم نواز اگر سرجن ہیں تو باپ سے پہلے ۔۔۔۔عامر لیاقت پھٹ پڑے ،(ن)لیگ کا وہ راز فاش کر دیا جو کوئی نہیں جانتا تھا

کراچی(ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا ہے کہ مریم بی بی نواز شریف کے پاس لندن جانے کی بجائے اپنے ذہنی مریض شوہر کیپٹن (ر) صفدر پر توجہ دیں اور ان کی صحت کا خیال رکھیں،کیا مریم نواز صاحبہ سرجن ہیں کہ ان کے بغیرنواز شریف کا آپریشن نہیں ہو گا؟۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ پستی اور چھوٹا ذہن یا بہت ہی گری ہوئی بات کرنا میرا خیال ہے کہ مسلم لیگ ن کو زیادہ زیب دیتا ہے،شریف خاندان کی جانب سے یہ کہنا کہ مریم نواز صاحبہ کو نہ جانے دیا گیا تو والد صاحب آپریشن نہیں کروائیں گے،کیا مریم نواز صاحبہ سرجن ہیں؟کیا ان کا نام سرجن مریم نواز ہے؟کیا وہ سرجری کرتی ہیں اور وہ اُن کی سرجری کریں گی؟کیا اُن کی موجودگی وہاں ضروری ہے؟میاں صاحب کے بچے جن کا نام حسن اور حسین نواز ہے یہ کس کام کے ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف تو شادی شدہ ہیں اور اِن کی بہویں بھی ہیں،میاں صاحب کا پورا خاندان وہاں موجود ہے،ان کے بھائی میاں شہباز صاحب بھی لندن موجود ہیں،میاں صاحب کو ایسی کیا ضرورت آن پڑی ہے کہ مریم نواز بھی آ جائے،کیپٹن صفدر بھی آجائے اور پورا خاندان بھی آجائے؟۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک اداکاری کی بات ہے تو اداکاری میں کوئی بھی ایوارڈ نہیں لے سکتا تھا اور ویسے بھی اداکاری سیکھنے کے لئے میاں نواز شریف صاحب کو رنگیلا کے پاس بھیجا گیا تھا لیکن وہ اداکاری نہیں سیکھ پائے تھے۔انہوں نے کہا کہ سوال صرف اتنا ہے کہ میاں صاحب کو اگر آپریشن کروانا تھا تو وہ یہاں سے یہ شرط کیوں نہیں لگا کے گئے تھے کہ اگر میری بیٹی میرے پاس موجود ہو گی تو میں آپریشن کرواؤں گا۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے کہا کہ میاں نواز شریف ضد پر کیوں اڑے ہوئے ہیں؟شادی کے بعد بیٹی اپنے گھر کی ہوتی ہے ،اب مریم نواز اپنے گھر کی ہو چکی ہیں اور اب وہ کیپٹن صفدر کی اہلیہ ہیں،اللہ ان کا سہاگ سلامت رکھے اور اللہ ان کے بچوں کے سر کا سایہ سلامت رکھے،خدانخواستہ اگر کیپٹن صفدر نہ رہتے تو مریم نواز اپنے باپ کے پاس جا سکتی تھیں،اب وہ سہاگن ہیں اس لئے ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہر کی خدمت کریں لیکن وہ اپنے باپ کے پاس جانا چاہتی ہیں،مریم بی بی نواز شریف کی بجائے کیپٹن (ر) صفدر پر توجہ دیں اور ان کی صحت کا خیال رکھیں کیونکہ وہ ویسے بھی ذہنی مریض ہیں،آپ کیپٹن صفدر کی باتیں سنیں تو خود محسوس کریں گے کہ ان کی ذہنی حالت کیسی ہے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں