2 پاکستانی نوجوانوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے دیت کی رقم کس نے ادا کی تھی ؟ سالوں بعد بی بی سی کا دھماکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) امریکی کنٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس نے حال ہی میں شائع ہونے والی سنسنی خیز آپ بیتی ‘دا کنٹریکٹر’ میں اپنی گرفتاری، مختلف اداروں کی جانب سے تفتیش، مقدمے، اور بالآخر رہائی کا ذکر بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے۔ اس دوران سب سے ڈرامائی دن مقدمے کا آخری دن تھا جب لاہور کی بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔کوٹ لکھپت جیل میں قائم کردہ خصوصی سیشن کورٹ میں ریمنڈ ڈیوس پر قتل کی فردِ جرم عائد ہونا تھی۔ ڈیوس لکھتے ہیں کہ انھیں اس رات نیند نہیں آئی۔عدالت میں اس دن معمول سے زیادہ بھیڑ تھی۔ ڈیوس کو سٹیل کے پنجرے میں بند کر کے جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کا مقصد مجھے لوگوں سے بچانا ہے یا پھر لوگوں کو مجھ سے محفوظ رکھنا۔‘ اس دوران وہاں موجود لوگوں کے رویے سے انھیں لگا جیسے وہ سبھی لوگ جج کی جانب سے ان کے قصوروار ہونے کا فیصلہ سنائے جانے کے منتظر ہیں تاکہ ’اس کے بعد وہ مجھے گھسیٹ کر کسی قریبی درخت سے لٹکا کر پھانسی دے دیں۔‘ڈیوس کو عدالت میں ایک حیران کن بات یہ نظر آئی کہ اس دن وکیلِ استغاثہ اسد منظور بٹ غیر حاضر تھے جنھوں نے اس سے قبل خاصی سخت جرح کر رکھی تھی اور ان کا دعویٰ تھا کہ ڈیوس نے فیضان حیدر کو بغیر کسی وجہ کے ہلاک کیا ہے۔کتاب کے مطابق بعد میں منظور بٹ نے کہا کہ جب وہ اس صبح عدالت پہنچے تو انھیں پکڑ کر کئی گھنٹوں تک قید رکھا گیا اور کارروائی سے دور رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے کلائنٹس سے بھی ملنے نہیں دیا گیا۔‘دا کنٹریکٹر’ کے مطابق یہ معاملہ اس قدر اہمیت اختیار کر گیا کہ 23 فروری 2011 کو پاکستانی اور امریکی فوج کے سربراہان جنرل کیانی اور ایڈمرل مائیک ملن کے درمیان عمان میں ایک ٹاپ سیکرٹ ملاقات ہوئ جس کا بڑا حصہ اس بات پر غور کرتے ہوئے صرف ہوا کہ پاکستان عدالتی نظام کے اندر سے کیسے کوئی راستہ نکالا جائے کہ کسی نہ کسی طرح ڈیوس کی گلوخلاصی ہو جائے۔16 مارچ کی دوپہر کو جب عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو جج نے صحافیوں سمیت تمام غیرمتعلقہ لوگوں کو باہر نکال دیا۔ لیکن ایک شخص جو کارروائی کے دوران کمرۂ عدالت میں موجود رہے اور وہ تھے پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل شجاع پاشا۔اس وقت ڈیوس کو معلوم نہیں تھا لیکن اسی دوران پسِ پردہ خاصی سرگرمیاں ہو رہی تھیں۔ ان سرگرمیوں کے روحِ رواں جنرل پاشا تھے، جو ایک طرف امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پنیٹا سے ملاقاتیں کر رہے تھے تو دوسری جانب اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر سے ان کی رابطے میں تھے۔ڈیوس لکھتے ہیں کہ عدالت کی کارروائی کے دوران جنرل صاحب مسلسل کیمرون منٹر کو لمحہ بہ لمحہ کارروائی کی خبریں موبائل فون پر میسج کر کے بھیج رہے تھے۔عدالتی کارروائی چونکہ اردو میں ہو رہی تھی کہ ڈیوس کو پتہ نہیں چلا لیکن درمیان میں لوگوں کے ردِ عمل سے پتہ چلا کہ کوئی بڑی بات ہو گئی ہے۔ ڈیوس کی ایک امریکی ساتھی پال وکیلوں کا پرا توڑ کر پنجرے کے قریب آئی اور کہا کہ جج نے ‘عدالت کو شرعی عدالت میں تبدیل کر دیا ہے۔‘‘یہ کیا کہہ رہی ہو؟’ ڈیوس نے حواس باختہ ہو کر کہا۔ ‘میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔‘کتاب کے مطابق مقدمے کو شرعی بنیادوں پر ختم کرنے کے فیصلے کے منصوبہ سازوں میں جنرل پاشا اور کیمرون منٹر شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں