ہندو لڑکی اور لڑکے نے مسلمان ہوکر شادی کرلی دونوں نے اپنے لئے کس نام کا انتخاب کیا ؟ جانئے

سندھ (نیوز ڈیسک) ہندو لڑکی اور لڑکے نے مسلمان ہو کر شادی کر لی۔تفصیلات کے مطابق اس سے قبل ایسی خبریں تو سامنے آتی رہی ہیں کہ ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کر کے مسلم لڑکوں سے سادی کر لی ہے جب کہ ان سے زبردستی اسلام قبول کروانے کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں تاہم لڑکیوں نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے مسلمان ہوئی ہیں۔ سندھ کے علاقے کھپرو میں ہندو لڑکی اور لڑکے نے مسلمان ہو کر شادی کر لی ہے۔جس کے بعد 18 سالہ گنگا کولہی کے گھر والوں کا مسلمانوں پر لڑکی کے اغوا کر الزام بھی جھوٹا ثابت ہو گیا۔کھپرو کے نواحی گاؤں جھکرو ہنگور کی گنگا کولہی گھر سے غائب ہو گئی تھی۔گنگا کے گھر والوں نے اصل معاملے کا علم ہونے کے باوجود ہتونگو کے سماجی کارکن عبدالستار ہنگوجو اور ان کے بھائیوں پر اغوا کا جھوٹا الزام عائد کر کے ایس ایس پی سانگھڑ کے سامنے احتجاج بھی کیا تھا۔گذشتہ روز گنگا کولہی نے گاؤں کے باہر رہنے والے ہندو جوگی خاندان کے لڑکے شیو لال کے ساتھ سامارو پہنچ کر پیر جان سرہندی کے ہاتھوں اسلام قبول کیا،دونوں نے اسلام قبول کر کے شادی کر لی۔گنگا کا اسلامی نام ماروی اور شیو لال کا نام عمر رکھا گیا۔واضح رہے اس سے قبل میرپورخاص ضلع کی تحصیل ڈگری میں ایک بچے کی ماں ماریا سے ڈگری کے رہائشی نوجوان سونو ولد مدن لال سونارو نے اپنا مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوکر شادی کرلی۔جب کہ نو مسلم نوجوان کا نام علی رکھا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سندھ میں ہندو لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے اور مسلمان لڑکوں سے شادی کرنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔سندھ میں دو ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ بیٹیوں کے اسلام قبول کرنے کی اطلاع موصول ہوئی تو ان کے والد نے ہندو کونسل کے دیگر اراکین کے ہمراہ انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور ان کے اغوا اور جبری طور پر مذہب تبدیل کروائے جانے کی من گھڑت کہانی بنائی تاکہ انہیں بازیاب کروانے کی کوشش کے تحت انہیں قتل کیا جاسکے۔بعد ازاں مبینہ طور پر اغوا کی گئی دو بہنوں اور ان کے شوہروں نے اپنے تحفظ کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں دونوں ہہنوں نے اقرار کیا کہ انہوں نے کسی دباؤ کے بغیر اسلام قبول کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں