اپوزیشن لیڈر کو تبدیل کیے جانے کا فیصلہ، پارلیمنٹ ہائوس سے اچانک بڑی خبر آگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اپوزیشن لیڈر کو تبدیل کیے جانے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن نے قومی حکومت کی آپشن کو اس لئے تسلیم نہیں کیا کیونکہ اس میں کوئی بھی شخص آزادانہ کردار ادا نہیں کر سکتا ۔ فوری طور پر انتخابات نہ ہونے کی صورت میں اپوزیشن کے نام پر شہباز شریف نے نواز شریف سے بات چیت کی، جس کے بعد خواجہ آصف کا نام دیا گیا بعدازاں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نام دے دیا۔شہباز شریف کو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹا کر شاہد خاقان عباسی کو لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس حوالے انکے ایک قریبی رشتہ دا فرخ عباسی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی۔ انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ آئندہ ہفتے قائد حزب اختلاف شاہد خاقان عباسی انشااللہ‘ جسکے بعد اس ٹویٹ کو ڈلیٹ کر دیا گیا تھا۔اںھوں نے کہا کہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ انھوں نے یہ ٹویٹ خود ہی ڈلیٹ کیا یا ان سے کروایا گیا۔انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن پاوربروکر کے ساتھ رابطے میں سرگرم ہے۔ ایک اہم افسر دو ماہ قبل مذاکرات کے لئے لندن گئے ۔ تبدیلیاں لانے کے لئے متعدد آپشن زیر غور لائیں گئیں۔ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کیلئے قومی حکومت کے قیام پر غور کیا گیا جو مسلم لیگ ن آمادہ نہ ہوئی ۔ تاہم شہبا زشریف نے عام انتخابات کی تجویز دی جس کو نو ٹ کر لیا گیا۔انکا کہنا ہے کہ اس وقت نواز شریف اور مریم نواز ایک پیج پر ہیں لیکن شہباز شریف کے ساتھ انکے تعلقات بہت اچھے نہیں ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انکونوازشریف اور مریم نواز پسند کرتے ہیں اور انہیں ’’مذاحمتی چہرے‘‘ کے طور پر سامنے لانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ترمیمی بل پر رائے شماری میں پارلیمنٹ سے غیر حاضر رہے کیونکہ پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود انہیں ایوان میں نہیں لایا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں