یوٹیوب خود کیا کماتی ہے دوسروں کو کس حساب سے منافع دیتی ہے ؟ ایسے حقائق جن سے آپ ناواقف ہونگے

لاہور(ویب ڈیسک) معروف ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ گوگل نے ایک سال میں کتنے روپے کمائے ہیں، اس حوالے سے ایک رپورٹ منظر عام پر آگئی۔گوگل اور یوٹیوب کی پیرنٹ کمپنی ایلفابیٹ کی جانب سے اپنی نوعیت کی پہلی رپورٹ شیئر کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس کی چلڈرن کمپنی یوٹیوب نے گزشتہ برس 15 ارب ڈالر (تقریباً 23 کھرب 16 ارب 75 کروڑ سے زائد پاکستانی روپے) کمائے ہیں۔ ایلفابیٹ نے بتایا کہ 2019 میں ہونے والی کمائی 2018 سے 4 ارب ڈالر زائد رہی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یوٹیوب نے صرف اسی سال 25 فیصد زائد کمائی کی۔کمپنی کے مطابق یوٹیوب نے 2017 میں 8 ارب 10 کروڑ ڈالر (تقریباً 10 کھرب 51 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کی کمائی کی تھی جبکہ 2018 میں یہ کمائی 11 ارب 20 کروڑ ڈالر (تقریباً 17 کھرب 29 ارب اور 84 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) کی کمائی کی تھی۔اپنی اس کمائی میں یوٹیوب نے ٹی وی سروس اور ریونیو اسٹریم کی کمائی شامل نہیں کی، تاہم اس حوالے سے کمپنی کے سی ای او سندر پچائی کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے کمپنی کو 2019 میں اضافی 3 ارب ڈالر (تقریباً 4 کھرب 63 ارب پاکستانی روپے) کی آمدنی حاصل ہوگی۔گوگل نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس نے پچھلے سال کلاؤڈ سروس کی مدد سے 8 ارب 90 کروڑ ڈالر (تقریباً 13 کھرب 74 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کی کمائی کی تھی۔اسی طرح کلاؤڈ کی سروس نے 2018 میں 5 ارب 80 کروڑ ڈالر (تقریباً 9 کھرب پاکستانی روپے) جبکہ 2017 میں 4 ارب ڈالر (تقریباً61 ارب 78 کھرب پاکستانی روپے سے زائد) کمائے تھے۔یوٹیوب سے حاصل ہونے والی کمائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے یوٹیوب کے چیف فنانشل آفیسر روتھ پوریٹ کا کہنا تھا کہ گوگل یہ ساری کمائی اپنے پاس نہیں رکھتا، بلکہ وہ اس کا زیادہ حصہ مواد تیار کرنے والوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔گوگل کی رپورٹ کے مطابق اس کی کمائی کا تخمینہ 46 ارب 94 کروڑ ڈالر (72تقریباً کھرب 49 ارب پاکستانی روپے سے زائد) لگایا گیا تھا تاہم اس کی کمائی گزشتہ برس 46 ارب 8 کروڑ ڈالر (71 کھرب 17 ارب پاکستانی روپے سے زائد) رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں