چین میں کرونا کے شبے میں ایک شخص کو زبردستی گھر سے ہسپتال منتقل کردیا گیا ، مگر پھر کیا ہوا ؟ جان کر پوری قوم افسردہ ہو گئی

بیجنگ(ویب ڈیسک) چین میں کورونا وائرس کے شکار والد کو قرنطینہ میں لے جانے کے باعث گھر میں اکیلا رہ جانے والا معذور بچہ ہلاک ہوگیا۔ چینی حکومت نے غفلت کا مظاہرہ کرنے پر دو افسران کو برطرف کردیا۔ چین کے صوبے ہوبئی میں 16 سالہ معذور بچہ یان شینگ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ رہتا تھا۔ یان شینگ کا والد اس کی دیکھ بھال کرنے والا واحد شخص تھا۔ ایک ہفتہ قبل اس کے والد اور بھائی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی، جس پر حکام نے دونوں کو زبردستی کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے اسپتال منتقل کردیا۔گھر پر اکیلا رہ جانے والا یان شینگ ایک ہفتے بعد موت کے منہ میں چلا گیا۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس ایک ہفتے کے دوران وہ صرف دو بار کچھ کھا سکا۔واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس کی مہلک وباء کے باعث اب تک 425 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 20 ہزار 438 افراد میں اب تک اس کی تصدیق ہوچکی ہے۔اسکے علاوہ چین سے باہر ایسے مصدقہ مریضوں کی تعداد 150سے زیادہ ہے جبکہ فلپائن میں ایک شخص اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوچکا ہے۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کے کیسزاس حوالے سے چینی حکام نے وائرس کی روک تھام کے لیے کئی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔اس حوالے سے چینی حکام نے وائرس کی روک تھام کے لیے کئی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔علاوہ ازیں متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس سے متعلق جھوٹی خبر یا افواہ پھیلانے کو جرم تصور کیا جائے گا اور ایسا کرنے والے شخص کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں