پاکستانیوں کیلئے نئی پریشانی، گیس کی قیمتوں میں کتنا اضافہ متوقع؟ جان کر ہی ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں پانچ سے 15 فیصد تک اضافہ کیے جانے کا امکان ہے۔نجی ٹی وی چینل مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں 5 فیصد سے 15 فیصد تک اضافہ کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منگل کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس معنقد ہوگا۔ذرائع کے مطابق اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں 245 فیصد تک اضافے کی تجویز دی تھی جسے مسترد کرتے ہوئے پٹرولیم ڈویژن نے 15 فیصد تک اضافہ کی سفارش کی ہے، اب حتمی فیصلہ ای سی سی کرے گی اس کے بعد ای سی سی کے فیصلے کی وفاقی کابینہ سے توثیق کروائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ گیس کی قیمتوں میں اضافہ پر اتفاق کررکھا ہے اور یہ اضافہ یکم جنوری سے ہونا تھا لیکن سیاسی و عوامی ردعمل کے باعث دو مرتبہ ای سی سی کے اجلاس میں سمری پیش ہونے کے باوجود اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہ ہوسکا تھا، تاہم اب آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان پہنچ چکا ہے اور مذاکرات بھی شروع ہیں اس لیے توقع کی جارہی ہے کہ کل ہونے والے ای سی سی کے اجلاس میں سمری کی منظوری دے دی جائے گی۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے وزارت پٹرولیم کو ہدایت دی ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا گھریلو صارفین پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے، وزیراعظم کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں صرف پانچ فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کے لیے میٹر رینٹ 20 روپے سے بڑھا کر 80 روپے ماہانہ، 40 سے 50 یونٹ ماہانہ تک گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ تندور سیکٹر کے لیے کم ازکم ماہانہ بل 220 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر کے لیے گیس کی قیمتوں میں 12 فیصد او انڈسٹریل کیپٹو پاور پلانٹس اور سی این جی اسٹیشنز کے لیے گیس کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، البتہ فرٹیلائزر سیکٹر کے لیے گیس کی موجودہ قیمتیں ہی برقرار رکھنے کی تجویز ہے جب کہ گیس کی مجوزہ قیمتوں کا اطلاق یکم فروری 2020ءسے کرنے کی تجویز دی گئی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں