’جو خواتین دوران حمل یہ کام کرتی ہیں ان کے بچوں کے دماغ کمزور ہوجاتے ہیں‘ سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی

لندن(نیوز ڈیسک) شراب کو دین اسلام نے ام الخبائث قرار دیا ہے جو اخلاقی بگاڑ کے ساتھ کئی طرح کی جسمانی بیماریوں کا بھی سبب بنتی ہے۔ اب سائنسدانوں نے شراب کا حاملہ خواتین کے لیے ایک انتہائی سنگین نقصان بتا دیاہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ جو حاملہ خواتین دوران حملہ حمل شراب پیتی ہیں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے دماغ دوسرے بچوں کی نسبت کہیں زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔یہ تحقیق برطانیہ کی برسٹل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوران حمل ماں کے شراب پینے سے بچے کے دماغ کی فعالیت شدید متاثر ہوتی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ماں کی یہ عادت بچے کے پیدائش کے وقت وزن پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے اور وہ کم وزن پیدا ہوتا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر لوسیا زکولو کا کہنا تھا کہ ”شراب کے ماں کے پیٹ میں پرورش پاتے بچوں کے لیے نقصانات کے شواہد ہر نئی تحقیق کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ہوتے جا رہے ہیں چنانچہ ہم خواتین کو نصیحت کریں گے کہ دوران حمل وہ کبھی بھی شراب نوشی مت کریں۔اس سے ان کے بچے کو ذہنی و جسمانی طور پر ایسا نقصان پہنچ سکتا ہے جسے وہ تمام عمر بھگتے گا۔“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں