0

فیصل واوڈا کی نا اہلی کی درخواست ۔۔۔ الیکشن کمیشن نے اپنا فیصلہ سُنا دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی نا اہلی کیلئے درخواست پر حتمی فیصلے تک وفاقی وزیر کی رکنیت معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر جلال سکندر سلطان کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے فیصل واوڈا کیخلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے فیصل واوڈا کے امریکی اور پاکستانی پاسپورٹس کی نقول اور امریکی قونصلیٹ سرٹیفکیٹ کی نقل پیش کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کیا آپ نقول اور اخباری تراشوں پر انحصار کرینگے یا تصدیق شدہ نقل بھی فراہم کرینگے، درخواست گزار نے کہا کہ آئندہ سماعت پر تصدیق شدہ نقول فراہم کر دینگے۔درخواست گزار کے وکیل نے فیصلہ آنے تک فیصل واوڈا کی رکنیت معطلی کی استدعا کی جس پر ممبر الیکشن کمیشن الطاف ابراہیم قریشی نے کہا کہ ایسی پہلے کوئی مثال موجود نہیں، فیصل واوڈا کو بھی سنا جائے گا۔ ممبر ارشاد قیصر کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کرنے پر آرٹیکل 62 کا اطلاق ہوتا ہے، دیکھنا ہوگا امریکی شہریت چھوڑی کب گئی ؟ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 فروری تک ملتوی کر دی۔ واضح رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وفاقی وزیربرائے آبی وسائل فیصل واوڈا کی نا اہلی کیلئے دائردرخواست پر فریقین سے جواب طلب کر رکھا ہے۔عدالت نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا اور الیکشن کمیشن سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 فروری تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ایڈووکیٹ جہانگیر خان جدون کے توسط سے دائر کی گئی درخواست میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا، سیکرٹری کابینہ ڈویژن، سیکرٹری قانون وانصاف، سیکرٹری قومی اسمبلی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست کے متن میں درج ہے کہ 2018الیکشن کے نامزدگی فارم جمع کراتے ہوئے فیصل واوڈا امریکی شہریت رکھتے تھے اور پی ٹی آئی رہنما نے جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا۔فیصل واوڈا نے جھوٹا حلف دے کر بددیانتی کی، وفاقی وزیر کو دہری شہریت رکھنے اور جھوٹا حلف نامہ دینے پر نااہل کیا جائے اوربطور وزیر کام کرنے سے روکا جائے۔عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ فیصل واوڈا کو نا اہل قرار دے کر کراچی کے حلقہ این اے 249 میں دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں