0

کرونا وائرس کا بڑھتا خطرہ!! حکومت کا پاک چین سرحد بند کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے کہاہے کہ چین میں کرونا وائرس کے پیش نظر وہاں موجود پاکستانی شہریوں کی ہر ممکن مدد کی جارہی ہے ۔ ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران عائشہ فاروقی نے کہا کہ چینی حکومت نے کرونا وائرس سے متعلق اقدامات کیے اورہم مشکل گھڑی میں چین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ چین میں اپنے تمام طلبا کی رجسٹریشن کو یقینی بنارہے ہیں، ان کیلئے چینی حکام سے رابطے میں ہیں، یونیورسٹیوں کی انتظامیہ اور چینی حکام سے انکی خوراک کا مسئلہ اٹھایا ہے ، وائرس کی وجہ سے چین کے ساتھ بارڈر اپریل تک بند رکھا جائے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ آزاد کشمیر کو پاکستان میں ضم کرنے کی کسی تجویز پر غور نہیں ہورہا، گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت پر تبصرہ نہیں کرسکتے ۔انہوں نے کہاکہ کابل میں ہمارے سفارتخانے کے باہر احتجاج ہورہا ہے لیکن سفارتخانہ کام جاری رکھے ہوئے ہے ۔یا۔اس موقع پر معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کرونا وائرس پھیل سکتا ہے ،اس لئے چین سے اپنے شہریوں کوواپس نہیں لائینگے ۔ پاکستان میں ابتک کرونا وائرس سے کوئی شخص متاثر نہیں ہوا۔ جس طرح تشویش پھیلائی جا رہی ہے ویسی صورتحال نہیں ۔ مناسب وقت پر مناسب اقدام کریں گے ، عجلت کا مظاہرہ نہیں کرینگے ۔ چین میں بڑھتا کرونا وائرس،پاکستان نے مرض سے بچاؤ کے پیش نظر چین کے ساتھ بارڈر بند کرنے کا حکم دے دیا۔ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے کرونا وائرس سے متعلق حفاظتی اقدامات کے پیش نظر خنجراب کے مقام پر تا حکم ثانی پاک چین بارڈر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب متعدد ممالک نے چینی شہر ووہان سے اپنے شہریوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے نکالنا شروع کر دیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا اور جاپان کے لیے پروازیں روانہ ہوئیں جبکہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا اس پر غور کر رہے ہیں۔ جرمنی نے بھی ایک فوجی طیارہ روانہ کیا ہے، جس کے ذریعے نوے جرمن شہریوں کو واپس لایا جائے گا۔ علاوہ ازیں برٹش ایئر ویز نے چین کے لیے اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ انڈونیشیا کے لائن ایئر گروپ نے بھی ہفتے سے چین کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں