0

سعودی عرب میں ہر ایک گھنٹے میں کتنی خواتین اپنے شوہروں سے طلاق لے رہی ہیں؟ اس رجحان کی وجہ کیا ؟ حیران کن خبرآگئی

ریاض(ویب ڈیسک) سروے رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک بھر میں ہر گھنٹے میں 7 جب کہ یومیہ 168 طلاقیں ہو رہی ہیں۔گزشتہ سال کیے جانے والے سروے کے مطابق سعودی عرب میں ہر گھنٹے میں 5 طلاقیں ہو رہی تھیں۔ سعودی گزٹ کے مطابق اگست 2019 میں کیے جانے والے سروے سے معلوم ہواتھا کہ ملک میں 84 فیصد طلاقیں شوہر اور بیوی کے درمیان بات چیت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔سروے میں یہ حیران کن انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ بے جوڑ شادیاں کرنے کی وجہ سے بھی سعودی عرب میں 54 فیصد طلاقیں ہوتی ہیں اور زیادہ تر نوجوان جوڑے ہی اس عمل میں پیش پیش ہیں۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سعودی عرب میں ریستورانوں کی انتظامیہ تاحال اس قانون پر غور و فکر کر رہی ہے جس کے تحت ریستورانوں میں داخلے کے لیے خواتین اور مردوں کو الگ الگ راستوں سے نہیں گزرنا پڑے گا۔سعودی عرب میں شہریوں کی زندگیاں آسان بنانے اور ان کی سہولت کے لیے مردوںاور خواتین کو اب ریستورانوں میں علیحدہ دروازوں سے داخل نہیں ہونا پڑے گا۔اس سے قبل ریستورانوں میں خواتین اور خاندانوں کے داخلے کے لیے الگ جبکہ مردوں کے لیے الگ دروازے سے داخلہ ضروری تھا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک میں انقلابی اقدامات کیے ہیں جن سے سعودی عرب کے حوالے سے عالمی رائے تبدیل ہوئی ہے۔وزارت بلدیات و دیہی امور میں تعلقات عامہ کے جنرل مینیجر نائف ال اوتائیبی نے عرب نیوز کو بتایا کہ صنفی امتیاز اب اپنے اپنے انتخاب کا معاملہ ہے۔ ’یہ اختیاری ہے، ہم نے داخلی دروازوں کو مختص نہیں کر رکھا اس لیے شہریوں کی مرضی ہے کہ وہ چاہیں تو کسی بھی دروازے سے ریستوران میں داخل ہو سکتے ہیں۔‘امریکن کافی چین سٹاربکس سمیت سعودی عرب میں بہت سے کیفے اور ریستورانوں میں عام طور پر خاندانوں اور مردوں کے لیے علیحدہ سیکشنز بنے ہوئے ہیں۔سٹاربکس کو چلانے والا الشایا گروپ، دا چیز کیک فیکٹری، پی ایف چینگز اور کئی دوسرے ریستوران یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ جنس کی بنیاد پر اس امتیاز کا خاتمہ کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں