پاکستان کے اہم ترین شہر میں دہشت گردی ۔۔۔۔ پولیو قطرے پلانے والے دو نرسیں شہید

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پرمولی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے نشانہ بنایا،ایک موقع پر جبکہ دوسری نے اسپتال میں دم توڑا، خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 2 خواتین پولیو ورکرز جاں بحق ہوگئیں جبکہ ملک میں پولیو کے 3نئے کیس سامنے آگئے جس سے نئے سال کے پہلےمہینے میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 6 ہوگئی۔پولیس حکام کے مطابق صوابی کے علاقہ پرمولی میں پولیو ورکرز پر نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک خاتون ورکر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی جبکہ دوسری خاتون کو فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ بھی زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پولیو ٹیم پر فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ملزموں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے احکامات دے دیئے ۔ ادھر سندھ کے ضلع رتو ڈیرو میں 26 ماہ کے بچے ، خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں 11 ماہ کے بچے اور بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کی تحصیل ڈیرہ مراد جمالی میں 20 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ۔ بلوچستان میں رواں سال پولیو کا یہ پہلا کیس سامنے آیا ہے ۔ محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ بچے کو 3 مرتبہ پولیو ویکسین پلائی گئی تھی اور اس کے نمونے 3 جنوری کو حاصل کئے گئے تھے ۔ حکام کا کہنا تھا متعلقہ علاقے میں پولیو وائرس کے زیادہ اثرات ہیں۔ خیبر پختونخوا میں رواں سال پولیو کا یہ تیسرا کیس ہے ۔ ایمرجنسی آپریشن سنٹر خیبر پختونخوا کے مطابق متاثرہ بچے کو حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے گئے تھے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں