مودی کا بیان بیمار ذہنیت کا عکاس ہے، پاکستان

پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہرزہ سرائی اور متشدد بیان مسترد کر دیا۔

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان، بھارتی وزیر اعظم کے غیر ذمہ دارانہ اور جنگ پر اکسانے والے تبصرے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ریمارکس بھارت کے پاکستان سے متعلق لاعلاج جنون کے عکاس ہیں، یہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت اور قیادت کی تعصب پر مبنی مسلم اور اقلیت مخالف پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مقامی و بین الاقوامی تنقید سے توجہ ہٹانے کی مایوسانہ کوشش ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کی دھمکیاں اور اشتعال انگیز بیانات بی جے پی قیادت کی انتہا پسند سوچ کو بیان کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے بالاکوٹ میں بھارت کے مِس ایڈونچر کا فوری اور موثر جواب اور گزشتہ برس بھارتی لڑاکا طیارے کو مار گرانا اور بھارتی پائلٹ کی گرفتاری ہماری مسلح افواج کے عزم، صلاحیت اور تیاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی پاکستان کے عوام اور مسلح افواج کے کسی بھی جارحانہ عمل سے نمٹنے کے عزم کے حوالے سے غلط اندازے نہیں لگانے چاہیے۔

عائشہ فاروقی نے کہا کہ ہم عالمی برادری پر زور دیتے ہیں کہ بھارتی قیادت کے تسلسل سے متشدد بیانات اور جارحانہ اقدامات کا نوٹس لے جس سے علاقائی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاج سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو کسی بھی نئی جنگ میں 10 روز سے بھی کم وقت میں شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

نئے شہریت قانون کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے باعث سست ہوتی معیشت اور آئندہ ماہ نئی دہلی میں ہونے والے ریاستی انتخابات میں اپنی ممکنہ شکست کو دیکھتے ہوئے نریندر مودی ایک مرتبہ پھر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی پر اتر آئے ہیں۔

فوجی اہلکاروں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ‘ہماری مسلح افواج پاکستان کو دھول چٹانے کے لیے 7 سے 10 دن سے زیادہ وقت نہیں لیں گی’۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں