تیز گام حادثے کے ذمہ دارن کون تھے؟ آگ کیسے لگی ؟ انکوائری رپورٹ جاری کردی گئی

اسلام آباد(نیو ز ڈیسک)پاکستان ریلوے نے گزشتہ برس اکتوبر میں ہونے والے تیزگام حادثے کی انکوائری رپورٹ جاری کردی جس میں انتظامیہ کو غفلت اور غیر ذمہ داری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگی۔ریلوے کے سابق انسپکٹر دوست علی لغاری کی جانب سے مرتب کی گئی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 31 اکتوبر کو ہونے والا حادثہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی مسافروں کے پاس گیس سلینڈر تھے جس کی تصدیق ہوئی ہے۔تیزگام حادثے کی وجوہات میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ریلوے کے متعدد افسران اور عہدیداروں کی سستی، غفلت اور غیر ذمہ داری بھی حادثے کا باعث بننے کو ثابت کرتی ہے۔ریل میں آگ لگنے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کوچ نمبر 11 میں کچن میں غیر قانونی اور غیر محفوظ انتظامات اور الیکٹریک کیتلی کے استعمال کے باعث آگ لگی جو ناقص وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے تھی۔کوچ نمبر 11 کی وائرنگ متاثر ہونے سے شدید دھواں بھر گیا اور آگ پھیل گئی جبکہ مسافر آگ لگنے کی صورت میں ٹرین کی بوگیوں سے باہر بھی نہ نکل سکے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریل کا متعلقہ اسٹاف ویٹرز کو عارضی کچن کے استعمال سے روکنے میں ناکام رہا۔انکوائری رپورٹ میں حادثے کی ذمہ داری ڈپٹی ڈی ایس، کمرشل افسر، ایس ایچ او، ڈائننگ کار کے ٹھیکیدار، ویٹرز، ہیڈ کانسٹیبل، کانسٹیبل، ریزرویشن اسٹاف پر عائد کرتے ہوئے نام بھی بتا دیے گئے ہیں۔ریلوے حکام کے مطابق انکوائری رپورٹ میں نامزد ذمہ داروں کو پہلے ہی ان کے عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔یاد رہے کہ 31 اکتوبر 2019 کو کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی اور آتشزدگی کے نتیجے میں کم ازکم 74 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے تھے۔تیزگام کے ساتھ یہ حادثہ صبح 6:15 منٹ پر پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کی تحصیل لیاقت پور میں چنی گوٹھ کے نزدیک چک نمبر 6 کے تانوری اسٹیشن پر پیش آیا تھا۔ابتدائی طور پر حکام نے حادثے کی وجہ گیس سلنڈر پھٹنے کو ٹھہرایا تھا اور کہنا تھا کہ آگ بوگی نمبر 3 میں موجود سلنڈر پھٹنے سے لگی اور تیزی سے 3 بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے حادثے پر محکمے کی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔پاکستان ریلوے نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اسٹیشنوں اور ریل کے اندر ڈیوٹی پر مامور ریلوے پولیس، کنڈیکٹر گارڈز، ٹکٹ چیکر و دیگر قوانین اور ایس او پیز کے مطابق فرائض انجام دیتے تو اس سانحے سے بچا جاسکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ریلوے انتظامیہ، آپریشنل اور سیکیورٹی کے سنگین نقائص کے باعث تیزگام ٹرین کا سانحہ پیش آیا کیونکہ ایسے حادثات کی روک تھام پر مامور عہدیداران نے متعلقہ قوانین اور اسٹینڈرڈ آپریشن پروسیجرز (ایس او پیز) کو نظر انداز کرتے ہوئے فرائض میں غفلت برتی۔پاکستان ریلوے کے چیف ایگزیکٹو آفسر (سی ای او) نے سیکیورٹی کی ناقص صورتحال کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ انکوائری رپورٹ میں ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘یہ سچ ہے کہ سیکیورٹی اور حفاظت کی ناقص صورتحال کی وجہ سے المناک حادثہ پیش آیا لہذا ہم حادثے کے ذمہ دار عہدیداران کو معاف نہیں کریں گے’۔بعد ازاں 3 جنوری 2020 کو پاکستان ریلوے کے سابق جنرل منیجر نے تیزگام حادثے کی عدالتی انکوائری کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی تھی۔درخواست گزار شفیق اللہ نے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، ریلوے کے سیکریٹری، چیف ایگزیکٹو افسر، انسپکٹر جنرل، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو فریق بنایا تھا۔درخواست میں عدالت سے 31 اکتوبر، 2019 کو پیش آنے والے 7-اپ تیزگام ایکسپریس کے حادثے کی جوڈیشل انکوائری کروانے اور وزارت ریلوے کی جانب سے سانحے کے متاثرین کے قیمتی حقوق کو نقصان پہنچانے اور مادی حقائق دبانے سے متعلق احکامات واپس لینے کی استدعا کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ‘سیکریٹری ریلوے نے نااہل سینئر گریڈ افسران کو ناجائز فائدے کی اجازت دے کر ریلویز ایکٹ، 1980 کے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی کی ہے جس سے مختلف گروہوں میں افراتفری اور خوف پھیل گیا ہے‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں