تحقیقاتی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات، معاملے کا رخ ہی بدل گیا، خبر پڑھ کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سانحہ تیز گام، ٹرین میں گیس کا سلنڈر تو پھٹا ہی نہیں تھا، مکمل کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات، معاملے کا رخ ہی بدل گیا، سانحہ سلنڈر پھٹنے سے نہیں بلکہ کچن پورشن میں الیکٹریکل کیٹل کی ناقص وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگنے والی آگ کے باعث رونما ہوا۔ تفصیلات کے مطابق بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس رونما ہونے والے سانحہ تیز گام کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔تحقیقاتی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تیز گام ٹرین میں سلنڈر پھٹنے سے آگ نہیں لگی۔ ٹرین میں آگ کچن پورشن میں الیکٹریکل کیٹل کی ناقص وائرنگ میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔ بتایا گیا ہے کہ 12 نمبر بوگی میں الیکٹرک سپلائی بوگی نمبر 11 سے غیر قانونی طریقے سے لی گئی تھی۔الیکٹرک کیٹل کی وائرنگ میں آگ لگنے سے کچن کے قریب پڑے سامان میں بھی آگ لگی۔وائرنگ متاثر ہونے سے پوری بوگی میں شدید دھواں بڑھ گیا، آگ نے بوگی نمبر12 کی تمام وائرنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ٹرین میں آگ لگنے کا ذمے دار ڈپٹی ڈی ایس، کمرشل آفیسر، ایس ایچ او، ڈائننگ کار کے ٹھیکیدار، ویٹرز، ہیڈ کانسپٹیبل، کانسٹیبل، ریزرویشن سٹاف قرار دیے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ذمہ داروں کو پہلے ہی عہدے سے ہٹایا جا چکا ہے۔ جبکہ واضح رہے کہ ٹرین حادثے میں 75 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔اس سانحہ کے حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی وزیر ریلوے کی سرزنش کی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ریل حادثے میں میں 70 افراد کے جلنے کے واقعے پر تو وزیرریلولے کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ سانحہ کے بعد گیٹ کیپر اور ڈرائیورز کو نکالا، بڑوں کو کیوں نہیں نکالا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں