139

باز آجائو۔۔۔۔۔

وائرس ایک زیر خوردبینی طفیلی ذرہ ہے، جس  کے معنی لازمی کے ہیں یعنی وائرس کو زندگی برقرار رکھنے کے لیے کسی خلیہ میں طفیلی کے طور رہنا لازمی ہے۔ وائرس حیاتی اجسام میں عدویئت (انفیکشن) پیدا کرتا ہے۔ وائرس کا لفظ دراصل لاطینی اور اس سے قبل یونانی سے آیا ہے جس کا مفہوم زہر ہے۔ وائرس آزاد زندگی قائم نہیں رکھـ سکتے اور یہ صرف کسی دوسرے جاندارخلیہ کا ڈی این اے یا آراین اے استعمال کرکے ہی اپنی تکرار (رپلیکیشن) کرسکتے ہیں، اسی لیے انکو درون خلیاتی طفیلیات (obligatory intracellular parasites) کہا جاتا ہے۔وائرسوں کی خلیاتی ساخت ایسی نہیں ہے کہ وہ لحمیاتی ترکیب (پروٹین سنتھیسس)کے ذریعے اپنی تولید کر سکیں یا اپنی کاپی بنا سکیں (اپنی تعداد میں اضافہ) کرسکیں۔ وائرس، بِدائِی المرکز (prokaryotic) اور حقیقی المرکز (eukaryotic) دونوں طرح کے خلیات میں انفیکشن (بیماری) پیدا کرتے ہیں۔ بدائی المرکز خلیات (بیکٹیریا) میں عدویئت پیداکرنے والے وائرسوں کو عاثیہ (ج: عاثیات / bacteriophage) بھی کہا جاتا ہے۔وائرس طفیلی صفت کی وجہ سے انسانوں اورجانوروں کے ساتھ بیکٹریامیں بھی کئی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں ۔ ان میں نزلہ زکام، پولیو، فلو، ایڈز ، برڈ فلو، کرونا وائرس وغیرہ شامل ہیں۔

لائیو سائنس کے مطابق دنیامیں 9 مہلک ترین وائرس ماربرگ ، ایبولا ، ریبیج ، ایچ آئی وی ، چیچک ، ہنٹا وائرس ، انفلوئنزا ، ڈینگی اور روٹا وائرس رہے ہیں۔ ماربرگ وائرس، سائنس دانوں نے اس وائرس کی نشاندہی 1967 میں کی تھی ، جب جرمنی میں لیبارٹری کے کارکنوں کے درمیان چھوٹی وباپھیل گئی تھی ، جو یوگنڈا سے درآمد شدہ بندروں کی وجہ سے پھیلی۔ پہلے وباء میں اموات کی شرح 25 فیصد تھی ، لیکن جمہوریہ کانگو میں 1998-2000 کے پھیلنے کے ساتھ ساتھ انگولا میں 2005 کے وباء میں یہ ہلاکتوں کی شرح 80 فیصد سے زیادہ تھی۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق1976 میں سوڈان اور کانگو میں ایبولا پھیل گیاتھا۔ایبولا خون یا جسم کے دیگر رقیقوں ، یا متاثرہ افراد یا جانوروں سے بافتوں کے ذریعے ذریعے پھیلتا ہے۔ ایبولا ریستن ، لوگوں کو بیمار بھی نہیں کرتا ہے لیکن اس سےاموات کی شرح 50 فیصد تک ہے ، اور سوڈان کے تناؤ میں یہ 71 فیصد تک ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق مغربی افریقہ میں وبا پھیلنے کا آغاز 2014 کے اوائل میں ہوا تھا ، اور آج تک اس بیماری کی سب سے بڑی وباپیچیدہ ہے۔ریبیز، اگرچہ پالتو جانوروں کے لئے ریبیز ویکسین جو 1920 کی دہائی میں متعارف کروائی گئی تھی ، نے اس مرض کو ترقی یافتہ دنیا میں انتہائی کم کرنے میں مدد فراہم کی ہے ، لیکن یہ ہندوستان اور افریقہ کے کچھ حصوں میں ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

اگراس وائرس کے شکارہونے کے بعد آپ علاج نہیں کرواتے ہیں تو آپ کے مرنے کا 100 فیصد امکان ہے۔ایچ آئی وی / ایڈز جدید دنیا میں سب سے مہلک وائرس ہوسکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 1980 کی دہائی کے اوائل میں اس بیماری کی پہلی بار شناخت ہونے کے بعد سے 36 ملین افراد ایچ آئی وی سے مر چکے ہیں۔ طاقتور اینٹی وایرل منشیات نے لوگوں کے لئے ایچ ای وی کے ساتھ سالوں تک جینا ممکن بنایا ہے ، لیکن یہ بیماری بہت کم اور درمیانی آمدنی والے ملکوں کو تباہ کرتی رہتی ہے ، جہاں 95 فیصد نئے ایچ آئی وی انفیکشن ہوتے ہیں۔ افریقہ میں ہر 20 میں سے تقریبا 1 بالغ فردمیں ایچ آئی وی پایاجاتاہے۔

چیچک، 1980 میں عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو چیچک سے پاک قرار دے دیا تھا۔ لیکن اس سے پہلے انسان ہزاروں سال تک چیچک سے لڑتا رہا ، اور اس بیماری نے ہر 3 میں سے 1 متاثرہ شخص کو ہلاک کیا۔ اس سے بچ جانے والےگہرے ، مستقل داغ اور اکثر اندھے پن کاشکارہوگئے۔ مورخین کاخیال ہے کہ امریکہ کی 90 فیصد مقامی آبادی یورپ کے متلاشیوں کے ذریعے متعارف کرائے گئے چیچک سے مر گئی ہے۔صرف 20 ویں صدی میں چیچک نے 300 ملین افراد کو ہلاک کیا۔ہنٹا وائرس، ہنٹا وائرس پلمونری سنڈروم (ایچ پی ایس) نے پہلی بار امریکامیں 1993 میں اس وقت توجہ حاصل کی جب سانس کی قلت پیدا ہونے کے چند دن میں ہی صحت مند جوڑے کی موت ہوگئی تھی۔

کچھ مہینوں کے بعد صحت حکام نے متاثرہ افراد میں سے ایک کے گھر میں رہنے والے ہرن ماؤس سے ہنٹا وائرس دریافت کیا۔ امریکی بیماریوں کے قابو پانے اور روک تھام کے مراکز کے مطابق امریکہ میں 600 سے زیادہ افراد اب ایچ پی ایس کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں اور 36 فیصد اس مرض سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ 1950 کی دہائی کے اوائل میں کوریائی جنگ کے دوران ہی ہنٹا وائرس نے ایک وبا پھیلا دی تھی۔

ڈینگی، ڈینگی وائرس پہلی بار فلپائن اور تھائی لینڈ میں 1950 کی دہائی میں نمودار ہوا تھا ، اور اس کے بعد سے وہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ دنیا کی اب تک کی آبادی کا 40 فیصد ان علاقوں میں رہتا ہے جہاں ڈینگی کا مرض موجود ہے ،یہ وائرس مچھروں سے پھیلتاہے،اورگرمی پڑنے کے ساتھ ساتھ اس سے کےزیادہ پھیل جانے کا امکان ہے۔ڈبلیو ایچ اوکے مطابق ڈینگی بخار میں اموات کی شرح کچھ دوسرے وائرس سے کم ہے ۔وائرس ایبولا جیسی بیماری کا سبب بن سکتا ہے جسے ڈینگی ہیمرجک بخار کہا جاتا ہے ، اور اگر علاج نہ کیا گیا تو اس کی شرح اموات 20 فیصد ہے۔روٹا وائرس، بچوں اور نو عمر بچوں میں اسہال سے متعلقہ شدید بیماری کی سب سے اہم وجہ روٹا وائرس ہے، بچوں کواس سے بچانے کے لئے اب 2 ویکسین دستیاب ہیں۔

اگرچہ ترقی یافتہ دنیا میں بچے روٹا وائرس کے انفیکشن سے شاذ و نادر ہی مر جاتے ہیں ، یہ بیماری ترقی پذیر دنیا میں ایک قاتل ہے ، جہاں ری ہائڈریشن کے علاج کی سہولت دستیاب نہیں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کا اندازہ ہے کہ 2008 میں روٹا وائرس کے انفیکشن سے 5 سال سے کم عمر کے 453،000 بچے فوت ہوگئے تھے۔

لیکن جن ممالک نے یہ ویکسین متعارف کروائی ہے ان میں روٹا وائرس سے اموات میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔جہاں تک کورونا وائرس کا تعلق ہے ’’جنگ گروپ اور جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک‘‘ کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ وہ میملز اور پرندوں میں ایک بیماری کی وجہ سے ہیں جس میں گائے اور سور میں اسہال شامل ہے ، اور مرغیوں میں اوپری سانس کی بیماری بھی ہے۔ ان میں سے کچھ اقسام سنجیدہ ہیں ، اگرچہ مشرق وسطی کے 858 افرادایم آر ایس سے ہلاک ہوچکے ہیں ، جو پہلے 2012 میں سعودی عرب اور پھر مشرق وسطی ، افریقہ ، ایشیاء اور یورپ کے دوسرے ممالک میں ظاہرہواتھا۔

اپریل 2014 میں ایم ای آرایس کےشکار پہلے امریکی کو انڈیانا میں ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور ایک اور کیس فلوریڈا میں رپورٹ کیا گیا تھا۔ دونوں سعودی عرب سے واپس آئے تھے۔ مئی 2015 میں کوریا میں ایم ای آرایس کا وبا پھیل گیا تھا ، جو جزیرہ عرب کے بعدسب سے بڑی وباتھی۔

2003 میں شدید سانس لینے کے سنڈروم (سارس) پھیلنے سے 774 افراد فوت ہوگئے تھے۔ 2015 کے بعد سے اس مخصوص سنڈروم سے متعلق معاملات کے بارے میں مزید کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

فی الوقت کرونا وائرس سے چین کے صوبے ہوبی کا شہری علاقہ ووہان زیادہ متاثر ہوا ہےجہاں جنوری کے آغاز میں اس وائرس سے متاثرہ پہلا کیس سامنے آیا تھا۔واضح رہے کہ ووہان کی آبادی 11 اعشاریہ 8 ملین سے زائد اور ہوبی صوبے کا شمار آبادی کے لحاظ سے دنیا کے دوسرے بڑے صوبے میں ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے تیزی سے ساتھ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چین کی حکومت کو سفر سے متعلق پابندیاں لگانا پڑیں  ۔

کورونا وائرس ایک عام وائرس ہے جو عموماً میملز(وہ جاندار جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں) پر مختلف انداز سے اثر انداز ہوتا ہے۔ عموماً گائے، خنزیر اور پرندوں میں نظام انہضام کو متاثر کر کے ڈائیریا یا سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔جبکہ انسانوں میں اس سے صرف نظام تنفس ہی متاثر ہوتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف اور گلے میں شدید سوزش یا خارش کی شکایت ہوتی ہے مگر اس وائرس کی زیادہ تر اقسام مہلک نہیں ہوتیں اور ایشیائی و یورپی ممالک میں تقریباً ہر شہری زندگی میں ایک دفعہ اس وائرس کا شکار ضرور ہوتا ہے۔کورونا وائرس کی زیادہ تر اقسام زیادہ مہلک نہیں ہوتیں اگرچہ اس کے علاج کے لیے کوئی مخصوص ویکسین یا ڈرگ دستیاب نہیں ہے مگر اس سے اموات کی شرح اب تک بہت کم تھی اور مناسب حفاظتی تدابیر کے ذریعے اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کر لیا جاتا تھا۔

مگر سال 2020 کے اوائل میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے چین میں اس وائرس کی ایک نئی مہلک قسم دریافت کی جسے نوول کرونا کا نام دیا گیا۔عام طور پر یہ وائرس اس سے متاثرہ شخص کے ساتھ ہاتھ ملانے یا اسے چھونے، جسم کے ساتھ مس ہونے سے دوسرے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ علاقے جہاں یہ وبا پھوٹی ہوئی ہو وہاں رہائشی علاقوں میں در و دیوار، فرش یا فرنیچر وغیرہ کو چھونے سے بھی وائرس کی منتقلی کے امکانات ہوتے ہیں۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق یہ کرونا وائرس جنگلی جانور سے پھلتا ہے۔انسان نے ترقی کی اندھا دھند تقلید اور اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ آرام دہ بنانے کے چکر میں نا صرف سیارۂ زمین بلکہ اپنی زندگیوں کو بھی کچھ ایسے روگ لگا لیے ہیں جو ہر آتے دن کے ساتھ کسی نئے المیے، ڈیزاسٹر یا تباہی کا سبب بن رہے ہیں۔سائنسدان وائرس کے ان حملوں کو biological war کا حصہ قرار دیتے ہیں ، لیکن اللہ رب العزت نے بھی کوئی قانون فطرت وضع کئے ہیں۔اللہ نے جن چیزوں کو انسانی صحت کے لئے مضر قرار دیا ہے ، انکے نہ صرف اسلامی پہلو ہیں بلکہ سائنسی اعتبار سے بھی نقصانات ہیں ۔ جب انسان اپنے علم اور طاقت کے زعم میں قانون قدرت میں دخل اندازی کرتا ہے تو اس طرح کے وائرس اللہ کی طرف سے ایک اشارہ  ہوتے ہیں کہ باز آ جائو ۔ باز آجائو۔بیشک یہ نشانیاں صاحب عقل و دانش کے لئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں