سب خواب پورے ہوگئے ! عمران خان نے اپنا آخری خواب بتادیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مافیا ملک میں پیسہ بنانے کے لیے مہنگائی کرتے ہیں، ایک ایک کو پکڑیں گے، نہیں چھوڑیں گے۔کراچی میں کامیاب جوان پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بد دیانتی اور سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے ہمیشہ پروگرام ناکام ہوتے ہیں۔ ہماری حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا پروگرام نوجوانوں کیلئے ہے۔ جتنا میرٹ ہوگا، اتنا ہی یہ پروگرام کامیاب ہوگا۔ جو معاشرہ میرٹ سے ہٹتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ کامیاب نوجوان پروگرام میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرٹ کا عمل ٹیلنٹ کو اوپر لاتا ہے۔ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے لیکن ہم دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سفارشی کلچر کی وجہ سے پاکستان پیچھے رہ گیا۔ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور اسے اوپر اٹھاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ہر ادارے کو عالمی معیار کے مطابق بنا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارا سسٹم میرٹ کو پروموٹ نہیں کرتا۔ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بیرون ملک پاکستانی بہت آگے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میں نے زندگی میں جو خواب دیکھا وہ پورا ہوا۔ پاکستان کیلئے کرکٹ کھیلنا، دنیا کا سب سے اچھا آل راؤنڈر بننا، ورلڈ کپ جیتنا اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کا قیام اور نمل یونیورسٹی بنانا میرے خواب تھے۔ میرا اب ایک ہی خواب ہے کہ پاکستان کوعظیم ملک بناؤں۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ مشکل اور قوم کی آزمائش کا وقت ہے۔ میرا خواب ہے کہ پاکستان کو وہ عظیم ملک بناؤں جس کا قائداعظم اور علامہ اقبال نے خواب دیکھا تھا۔انہوں نے کہا کہ زندگی میں اچھے اور برے وقت آتے ہیں لیکن کامیاب لوگ برے وقت سے سیکھتے ہیں۔ میں کابینہ میٹنگ میں اپنے وزرا کو گھبرایا ہوا دیکھتا ہوں۔ میں انھیں بھی کہتا ہوں کہ برے وقت سے گھبرایا نہیں کرتے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سب سے عظیم اور کامیاب شخص ہمارے نبیؐتھے۔ ہمیں ان کی زندگی سے سیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی دن انھیں اقتدار نہیں دے دیا تھا۔ ہمارے پیارے نبیؐنے بڑا مشکل وقت گزارا لیکن مدینہ کی ریاست نے دنیا کی تاریخ بدل دی تھی۔دورہ کراچی کے دوران وزیراعظم نے کاروباری شخصیات کے وفد سے بھی ملاقات کی اور کہا کہ معیشت کی ترقی کے لے آپ رہنمائی کریں۔ ہم مشکل وقت سے گزر رہے ہیں جو پچھلی حکومتوں کی بد انتظامی اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔ اصلاحات کے عمل میں وقت بھی لگتا ہے اور رکاوٹیں بھی پیش آتی ہیں۔ ہماری حکومت نے اس نظام کی دیرپا طور پر درستگی کرنی ہے۔انہوں نے کاروباری شخصیات کو بتایا کہ ڈیووس میں بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ہماری افرادی قوت ہی ہمارا سرمایہ ہیں۔ ملائیشیا بھی اسی طرح کے مسائل سے دوچار رہا اور انہوں نے ترقی کی۔ ہم بھی کرپشن کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ جب تک کرپشن ختم نہیں ہوگی، ترقی ممکن نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومتی معاشی ٹیم دن رات محنت کر رہی ہے تا کہ سرمایہ کاری میں آسانیاں پیدا کی جائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں