0

اگر پاکستانی میڈیا مدد نہ کرتا تو آج میں کس حال میں ہوتا ؟ عمران خان کا حیران کن بیان سامنے آگیا

کراچی (ویب ڈیسک)  وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ تنقید سے گھبرانے والے نہیں نہ ہی اپنے نظریہ پر سمجھوتہ کریں گے ۔ برے وقت سے نمٹنے کا ایک طریقہ ہے کہ اخبارپڑھیں اور نا ہی ٹاک شوز دیکھیں کیاوزیراعظم کا بیان درست ہے؟حکومت نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پر سوال اٹھا دیا رپورٹ مسترد کرتے ہیں وزیر اطلاعات کا دعویٰ درست ہے؟اس پر تجزیہ کاروں نے کہا کہ وزیراعظم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ میڈیا نہ ہوتا تو میری جدوجہد کامیاب نہ ہوتی، مایوسی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نہیں پھیلا رہی مایوسی روز نئے نئے آنے والے بحران پھیلا رہے ہیں۔ سینئر تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ میرے خیال میں انہوں نے شام کے ٹاک شوز کا کہا ہے اس کا اطلاق میرے پروگرام جرگہ پر نہیں ہوسکتا مشورہ ان کا ٹھیک ہے میں اتفاق کرتا ہوں کیوں کہ اگر یہ قوم ٹاک شوز نہ دیکھتی اخبارات نہ پڑھتے تو نہ سیاستدان ان کی نظروں میں اتنے بدنام ہوتے اور نہ ان کی حکومت دیکھنا پڑتی۔جس حکومت میں فردوس عاشق ، شہریار آفریدی جیسے لوگوں کی ساکھ ہو تو ظاہر سی بات ہے ٹرانسپیرنسی انٹیشنل جیسے اداروں کی ساکھ نہیں ہوسکتی۔ سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ عمران خان کا بیان زیادتی پر مبنی نہیں ہے اگر ہم نشاندہی کرتے ہیں ان کی، تو وہ بھی حق رکھتے ہیں نشاندہی کرنے کا اور ہم حق رکھتے ہیں ان کی رائے سے متفق نہ ہوں، ہم اگر کسی کو مافیا کہتے ہیں یا کوئی ہمیں مافیا کہتا ہے تو اس میں غصہ ہونے کی ضرورت نہیں البتہ اس طرح کی باتوں سے ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہم صحیح کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایک میڈیا گروپ میرے خلاف ہے اس کی ایجنڈا کی بنیاد پر صحافت ہے، یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ میڈیا پر پیسہ لگا ہوا ہے ان پر جو تنقید ہو رہی ہے اس کے پیچھے پیسہ ہے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ گارڈ فادر، سسلین مافیا نے میڈیا کو نوازا تیس چالیس سال آج میڈیا ان کی نوازشوں کی ادائیگی کرر ہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں