0

خالد مقبول صدیقی کو استعفیٰ واپس لینے پر کس نے اور کن شرائط پر راضی کیا ؟ ساری کہانی سامنے آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) حکومتی وفد نے ناراض ہوکر وزارت چھوڑنے والے وزیر خالد مقبول صدیقی کو منالیا ہے۔ ایکسپریس کے ذرائع کے مطابق حکومت ناراض اتحادیوں کو منانے کے اپنے پہلے مشن میں کامیاب ہوگئی ہے اور انہوں اتحادی وزیر خالد مقبول صدیقی کو منالیا ہے۔ حکومت خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ منظور نہیں کرے گیاور نہ ہی ان کی جگہ ایم کیو ایم سے کسی کو وزیربنایا جائے گا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے وفود کے درمیان آئندہ ملاقات بدھ کو ہوگی جب کہ بہت جلد خالد مقبول صدیقی کی وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہوگی۔ دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں شمولیت کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا کیوں کہ کا بینہ سے زیادہ اہم ایشو عوامی مسائل ہیں، وفاق نے فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور فنڈز مل جائیں اس کے بعد لا ئحہ عمل بنائیں گے جب کہ حکومتی وفد سے اہم ملاقات اس ہفتے میں متو قع ہے جس کے بعد مستقبل کا تعین ہوگا۔ واضح رہے خالد مقبول صدیقی نے 12 جنوری کو حکومت سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزارت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جس پر اسد عمر کی سربراہی میں حکومتی وفد انہیں منانے ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بھی آیا تھا جو ناکام ہوگیا تھا۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سپیکربلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ وزیراعلی جام کمال خان پارٹی اور صوبائی حکومت کو چلانے میں ناکا م ہوچکے ہیں،ان کی ناکامی نے صوبے کو بدحالی کا شکاربنادیا ہے، اس سے بدتر حکومت صوبے کی تاریخ میں کبھی نہیں آئی، وزیراعلی ہاؤس میں اب عوام تو دور کی بات خود وزرا بھی نہیں جاسکتے، اگر وزیراعلی مجھے سیریس نہیں لیتے تو بحیثیت سپیکر میرے الفاظ کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہوگی،ہم پارٹی کے اندر تبدیلی کی بات کر رہے ہیں، اس پارٹی کو ہر صورت عوامی پارٹی بنا کر دم لیں گے،وزراء اور وزیراعلیٰ کے بیانات سے سپیکر کے عہدے کا استحقاق مجروح ہوا ہے، میں نے تحریک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں