سائنسدانوں کی محنت رنگ لے آئی ….. دراصل کرونا وائرس ہے کیا ؟ رپورٹ‌نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

چین (ویب ڈیسک ) صوبے ہوبئی کے وسطی شہر ووہان میں ایک نئے قسم کے وائرس ’کورونا‘ سے کم از کم 18 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ اب تک اس وائرس کے 550 کیسز ساری دنیا سے رپورٹ ہوچکے ہیں۔کورونا وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد کا تعلق چین سے ہی ہے جہاں روز بروز متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔چین میں نئے قمری سال کے جشن کے لیے لاکھوں افراد مختلف ممالک سے چین آتے ہیں اورچین میں رہنے والے اندرونِ ملک بڑے پیمانے پر سفر کرتے ہیں جس کی وجہ سے اس وائرس کے مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔شبہ ہے کہ یہ وائرس چین کی سمندری حیات کی مارکیٹ سے پھیلا ہے جہاں آبی حیات کی غیر قانونی تجارت بھی کی جاتی ہے۔ آئیے اس وائرس کے بارے میں مزید جانتے ہیں۔کورونا وائرس دراصل کیا ہے؟عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق کورونا وائرسز ایک سے زائد وائرس کا خاندان ہے جس کی وجہ سے عام سردی سے لے کر زیادہ سنگین نوعیت کی بیماریوں، جیسے مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سنڈروم (مرس) اور سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سنڈروم (سارس) جیسے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔یہ وائرس عام طور پر جانوروں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سارس کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ یہ بلیوں کی ایک خاص نسل Civet Cats جسے اردو میں مشک بلاؤ اور گربہ زباد وغیرہ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس سے انسانوں میں منتقل ہوا جبکہ مرس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک خاص نسل کے اونٹ سے انسانوں میں منتقل ہوا۔اب بھی بہت سارے کورونا وائرس ایسے ہیں جو جانوروں میں پائے جاتے ہیں لیکن ابھی تک انسان ان سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔چینی حکام نے 7 جنوری کو اس فیملی کے ایک کورونا وائرس کی تشخیص کی جسے 2019 nCoV کا نام دیا گیا ہے اور اس کی انسانوں میں پہلے کبھیتشخیص نہیں ہوئی۔اس وائرس کے بارے میں ابھی زیادہ کچھ تو نہیں معلوم مگر یہ بات یقینی ہے کہ یہ انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، کیونکہ دورانِ علاج چین کے 15 میڈیکل اسٹاف کے افراد بھی اس سے متاثر ہوئے۔اس کی علامات کیا ہیں؟ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس کی علامات میں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی اور نظام تنفس سے جڑی دیگر بیماریاں شامل ہیں۔اس وائرس کی شدید نوعیت کے باعث گردے فیل ہوسکتے ہیں، نمونیا اور یہاں تک کے موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے؟ماہرین کے مطابق کورونا وائرس اتنا خطرناک نہیں جتنا کہ اس وائرس کی ایک اور قسم سارس ہے جس سے 3-2002 کے دوران دنیا بھر میں تقریباً 800 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور یہ وائرس بھی چین سے پھیلا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں