سی پیک کے خلاف امریکی پراپیگنڈے پر چین بھی کھل کر میدان میں آگیا ،کرارا جواب دے دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )چینی سفارتخانے نے سی پیک پر امریکی الزامات سامنے آنے کے بعد کہا ہے کہ امریکا، پاک چین تعلقات پر الزام دھرنے سے پہلے ماضی دیکھے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے کیا کیا؟ کیا ایلس ویلز پاکستان کے لیے امداد، سرمایہ کاری یا ٹریڈ لے کر آئی ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو پاکستان اور خطے کی ترقی اور خوشحالی کا صحیح خیال ہے تو کیش اور فنڈز لائے، باہمی احترام، منصفانہ اور شفاف بنیاد پر تعاون کرے نا کہ عالمی تھانے دار کا کردار ادا کرے، ایسے شخص کو کبھی نہیں جگا سکتے جو سوئے ہونے کا تاثر دے، امریکا ابھی تک سی پیک کے بارے میں حقائق کو نظرانداز کررہا ہے، سی پیک منصوبوں میں گزشتہ 5 سال میں اہم پیشرفت حاصل کی گئی ہے۔واضح رہے پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی امریکی نائب معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز نے ایک بار پھر پاک چین سی پیک کے حوالے سے الزامات دہرائے ہیں۔پاکستان میں چینی سفارتخانے نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کا کل غیرملکی قرضہ 110 ارب ڈالر ہے، پیرس کلب اور آئی ایم ایف پاکستان کو سب سے بڑے قرضے دینے والے ادارے ہیں۔ سی پیک کے لیے قرض 5 ارب 80 کروڑ ڈالر ہے جو کل قرض کا 5.3 فیصد ہے، سی پیک کا یہ قرض 20 سے 25 سال میں واپس ہونا ہے اور اس پر شرح سود تقریباً 2 فیصد ہے، قرض واپسی کا آغاز 2021 سے ہونا ہے، سالانہ واپسی 30 کروڑ ڈالر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک قرض پاکستان کے لیے کبھی بوجھ نہیں ہوگا، چین نے دوسرے ملکوں کو کبھی قرض ادائیگی پر مجبور نہیں کیا، چین پاکستان کے بارے میں بھی قرض واپسی کے نامناسب مطالبات نہیں کرے گا۔چینی سفارتخانے کے بیان کے مطابق سی پیک میں شامل چینی کمپنیاں بین الاقوامی شہرت کی حامل ہیں، امریکا نے دنیا بھر میں پابندی کی چھڑی پکڑ رکھی ہے جس سے کبھی اِس اور کبھی ا±س ملک کو بلیک لسٹ کردیتا ہے، یہ بلیک لسٹ عالمی معیشت کے لیے نہیں بلکہ اپنے سیاسی مقصد کے لیے کرتا ہے۔چین کا بیان میں کہنا ہے کہ امریکا نام نہاد قرض کہانی گھڑتا رہتا ہے، ان کی ریاضی کمزور اور ارادہ برا ہے، ایم ایل ون منصوبہ ابھی منظور نہیں ہوا، منصوبے کی رقم پاکستان کی ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں