0

پاکستانی نوجوان لڑکیوں کو کس کام کے لیے یورپ منتقل کیا جا رہا ہے؟ ایک اور اسکینڈل نے ہلچل مچا دی

کراچی (نیوز ڈیسک) چین کے بعد یورپ میں بھی نوجوان پاکستانی لڑکیاں سمگل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ایف آئی اے امیگریشن نے جناح انٹرینشنل ائیرپورٹ سے جعلی نکاح نامے پر لڑکی کو یورپ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔92 نیوز رپورٹ کے مطابق انسانی سمگلنگ میں ملوث ملزمان نے ترکی کے سفارتخانے کی جعلی مہر پاسپورٹ پر لگائی اور اٹلی کے سفارتخانے میں وزٹ ویزا حاصل کیا،لڑکی اور کے ساتھی کو کراچی ائیرپورٹ پر پکڑنے جانے کے بعد اینٹی سمگلنگ سیل منتقل کر دیا گیا،ذرائع کا کہنا ہے کہ معراج نامی شخص سیالکوٹ پنجاب کی 23سالہ لڑکی کے ساتھ غیر ملکی فضائی کمپنی کے کاؤنٹر سے کلئیرنس کے بعد ایف آئی اے کے کاؤنٹر پہنچے۔ جہاں دونوں مسافروں نے اپنی دستاویزات نکاح نامی ،پاسپورٹ،قومی شناختی کارڈ پیش کیا۔ لڑکے کے پاسپورٹ پر ترکی کے ویزے کی سٹیمپ تھی۔جس کے مطابق لڑکی نے فروری 2019ء میں ترکی میں انٹری حاصل کی تھی لیکن لڑکی کا سفری ریکارڈ میسر نہیں تھا۔جس پر ایف آئی اے امیگریشن حکام نے دونوں مسافروں کو علیحدہ علیحدہ سوالات شروع کیے۔اس دوران لڑکی نے امیگریشن حکام کو بتایا کہ اس نے جعلی نکاح نامے اور ترکی کی جعلی ویزا سٹیمپ پر اٹلی کا ویزا حاصل کیا۔ اور اٹلی پہنچنے کے بعد ہمیں الگ الگ جانا تھا،جس کے لیے ایک ٹریول ایجنٹ نے تمام معاملات طے کر دئیے تھے۔لڑکی نے امیگریشن حکام کو بتایا کہ اسے اٹلی پہنچنے کے بعد جرمنی جاناتھا۔امیگریشن حکام نے دونوں مسافروں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے بعد ان دونوں کو آف لوڈ کر کے باقی کاروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومین ٹریفکنگ سرجکل کراچی منتقل کر دیا۔جہاں دونوں کے بیانات کی روشنی میں مقدمہ درج کیا گیا جائے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان سے چین لڑکیوں کی سمگلنگ کا انکشاف ہوا تھا۔چین لے جا کر لڑکیوں سے جسم فروشی جیسے کام کروائے جاتے تھے۔ اور کئی لڑکیوں نے پاکستان آ کر چین میں شادیوں کے حوالےسے وہاں جانے والی لڑکیوں کی آنکھیں کھول دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں