0

وہ پاکستانی جس نے 6 ماہ قبل ہی آٹے کے بحران کی پیشنگوئی کردی تھی، دراصل وجہ کیا ہے؟ آپ بھی جانئے

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان میں کراچی سے لے کر خیبرتک آٹے کے بحران کی خبریں آرہی ہیں، بعض مقامات پر آٹا مہنگا ملنے اور بعض مقامات پر قلت کی بھی شکایات ہیں لیکن ایسے میں وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر اور معروف کالم نویس محمد اکرم چودھری نے گزشتہ سال مئی میں ہی آٹے کے بحران کی پیشنگوئی کردی تھی اور اس کی ممکنہ وجوہات پر بھی روشنی ڈالی تھی ۔ میں محمد اکرم چودھری نے 12 مئی 2019 کو لکھا تھا کہ ” حکومتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ممکنہ مسائل کو دیکھتے ہوئے بروقت بہتر منصوبہ بندی کریں تاکہ کسی بھی قسم کے بحران سے بچا جا سکے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم بیٹھے دیکھتے رہتے ہیں روایتی سست انداز میں سوچتے ہیں کہ جب ہو گا دیکھا جائے گا۔ جب مصیبت ٹوٹتی ہے، طوفان آتا ہے، بحران پیدا ہوتا ہے تو ادھر ادھر بھاگتے ہیں لیکن اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس بحران کو ختم کرنے کے لیے ہم جلد بازی میں فیصلے کرتے ہیں اور مزید نقصان اٹھاتے ہیں۔بدقسمتی سے ان سب کاموں میں سب سے زیادہ نقصان عام آدمی عام پاکستانی کا ہوتا ہے۔ وہ پاکستانی جس کی قوت خرید کم ہے، وہ پاکستانی جس کے وسائل کم ہیں ریاستی اداروں کی روایتی سستی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھاتے ہیں۔ آبادی میں ایسے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور جب کسی اہم چیز کی قلت پیدا ہوتی ہے تو پورا ملک اسکی لپیٹ میں آتا ہے۔پھر بات حکومت کے قابو سے باہر نکل جاتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔ بہت بڑے بڑے مسائل عمران خان کی حکومت کو ورثے میں ملے ہیں۔ لیکن کئی مسائل ایسے جو حکومت کی کمزور حکمت عملی کی وجہ سے سامنے آئے ہیں، کئی مسائل میں حکومت بہتر اور بروقت اچھی منصوبہ بندی کرنے اور سٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر حکمت عملی ترتیب نہیں دے سکی اس کمزوری کی وجہ سے عوام کو بنیادی ضرورت کی اشیاء کے حوالے سے کوفت کا سامنا کرنا پڑا ہے”۔اس وقت انہوں نے لکھا تھا کہ “ان دنوں چینی ستر سے اسی روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہے۔ اگر چند ماہ قبل منصوبہ بندی کی جاتی تو یہ قیمت ساٹھ سے پینسٹھ روپے فی کلو کے درمیان یا اس سے بھی کچھ کم ہوتی۔ جبکہ چینی کا مصنوعی بحران بھی پیدا کیا جا رہا ہے۔ باوجود اس کے کہ اس سال کرشنگ شیزن میں گنے کے کاشتکاروں کے لیے بروقت ادائیگیوں کو یقینی بنایا گیا۔ ہماری رائے میں اس وقت بھی چینی ملکی ضرورت سے زیادہ موجود ہے۔ لیکن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں