0

مضبوط اتحادی سمجھی جانیوالی جماعت ق لیگ حکومت سے بیزار ، کھلاڑیوں پر سکتہ طاری ، خبر نے سیاسی ایوانوں میں کھلبلی مچادی

اسلام آباد(نیو زڈیسک) ق لیگ حکومت سے بلکل بیزار ہو چکی ہے، تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی ہارون الرشید نے انکشاف کیا ہے ق لیگ حکومت سے بلکل بیزار ہو چکی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ کہ اگر اب انکو فنڈز نہ دیے گئے تو فیصلہ کیا جائیگا، پرویز الٰہی نے عمران خان سے کہا کہ میں نے آپکو کب کہا ہے کہ مونس الٰہی کو وزیربنائیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ ایک مکالمہ یہ بھی ہوا کہ عمران خان کے ایک وسیم اکرم ہیں لیکن انکی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینئر مرکزی رہنماء چودھری مونس الٰہی نے کہا تھا کہ خان صاحب کوبتا دیا،اب ہمیں وزارت نہیں چاہیے،وزارت والا باب بند کردیں،ہم چاہتے ہیں حکومت مدت پوری کرے، لگتا ہے کہ اس بار پی ٹی آئی تحفظات دور کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لے گی۔انہوں نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ الیکشن سے پہلے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے اتحاد کافی بحث ومباحثے کے بعد ہوا، ہماری اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی، لیکن جو بات ہوئی تھی کہ بہاولپور میں ہمارے امیدوار طارق بشیر چیمہ کو سپورٹ کریں گے، لیکن الیکشن میں پی ٹی آئی نے ایک خاتون کو ٹکٹ دے دیا جو کہ اتحاد کی خلاف ورزی تھی۔لیکن ہم وہاں خاموش رہے، اس خاتون نے صرف کوئی 3ہزار ووٹ لیے۔جب حکومت سازی ہورہی تھی تو ہم تحریک انصاف کے ساتھ پھر اتحاد میں گئے، حکومت سازی کیلئے ہماری جو بات طے ہوئی اس کے تحت وفاق میں 2وزارتیں ، 2صوبے میں اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کا عہدہ ہمیں دیا جائے گا۔جس کے تحت انہوں نے طارق بشیر چیمہ کو وفاق میں لے لیا اور صوبے میں ایک وزارت دی۔ہمارے دوسرے صوبائی وزیر سے حلف نہیں لے رہے، ہم ان کو باربار یاد ہانی کرواتے رہے، اسی طرح ہمارے صوبائی وزیر حافظ عمار کی وزارت میں مداخلت شروع کردی، پی ٹی آئی کے ہارے ہوئے امیدواروں کو وزارت کے محکموں میں لگانا شروع کردیا، سیکرٹری تبدیل کردیے۔حافظ عمار نے تنگ آکر استعفیٰ دے دیا، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے دوبارہ چیزیں ٹھیک کروائیں۔مونس الٰہی نے کہا کہ اب تحریک انصاف نے دوبارہ ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ وعدوں کو پورا کریں گے اور تحفظات دور کریں گے، ہماری خواہش ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے، کیونکہ ہم ان کی کشتی میں سوار ہیں، کیونکہ اگر یہ ڈوبتے ہیں تو ہم بھی ڈوب جائیں گے، اس بار لگتا ہے کہ پی ٹی آئی معاملے کو سنجیدگی سے لیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ن لیگ آئی تو ہم نے اپوزیشن کو جھیلا اور جب ہم نے پی ٹی آئی اتحاد قائم کیا تو ہمارا خیال تھا کہ اب ہم اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو ڈلیور کرسکیں گے۔ہم نے ان کو ایک چیز سمجھائی تھی کہ سیاست اور بیوروکریسی میں توازن قائم کریں، جب سارا کچھ سیاستدانوں یا سارا کچھ بیوروکریٹ کو دے دیں گے تو کا م نہیں چلے گا۔چودھری مونس الٰہی نے کہا تھا کہ وزارت پر اب کوئی بات نہیں ہوئی، میں نے خان صاحب کو بتا دیاتھا کہ ہمیں اب مزید وزارت میں دلچپسی نہیں،اس لیے وزارت والا باب بے شک اب بند کردیں کیونکہ اگر ایک بندہ کابینہ کو جوائن کرتا ہے اور آپ اس کے ساتھ چلنے میں راضی نہیں تو پھر وزارت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم نے پیپلزپارٹی کے دور میں بھی کافی امیدواروں کو وزارتیں دی تھیں۔ مجھے وزارت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو کبھی خود سے مشورہ نہیں دیا بلکہ جب یہ مشورہ مانگتے ہیں تو ہم مشورہ دیتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں