آٹے کے بحران کے بعد غریب عوام کو ایک اور بری خبر بنادی گئی آپ بھی دل تھام کر رہ جائیں گے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ملک بھر میں منہگائی کی چکی میں پسی عوام کیلئے روٹی بھی مہنگی ہوگئی،نانبائیوں نے روٹی کی قیمت 15 روپے کرنے کا مطالبہ کردیا، پشاورمیں 20 کلو فائن آٹے کی قیمت 1250 روپے، کوئٹہ میں 1120 روپے اور اسلام آباد میں 880 روپے ہوگئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت تاحال آٹے کی قیمتیں مقرر کرنے اور آٹے کی سپلائی مارکیٹ میں یقینی بنانے میں ناکام ہے۔نانبائیوں نے 170 گرام روٹی کی قیمت 15 روپے کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ انجمن نانبائی ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی پیرسے پشاورمیں ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ کوئٹہ 20 کلو آٹے کی بوری 1120 روپے کی ہوگئی۔ پشاورمیں 20 کلو فائن آٹے کی قیمت 1250 روپے اور اسلام آباد میں 15کلو فائن آٹا 880 روپے کا ہو گیا ہے۔لاہور میں بھی چکی مالکان 70روپے فی کلو آٹا فروخت کرنے پراڑ گئے۔10کلو آٹے کے تھیلے پر 250 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور وزیر اعلی کے مشیر برائے قبائلی اضلاع اجمل وزیر نے کہا کہ صوبے میں میں آٹے کا کوئی بحران نہیں ہے، بعض ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور اپنے مفاد کیلئے مصنوعی بحران پیدا کر نے کی کوشش کر رہے ہیں، صوبائی حکومت کی جا نب سے تمام اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف فوری کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔سندھ کے وزیرزراعت محمد اسماعیل راہو نے کہا کہ وفاقی حکومت پڑوسی ملک کوگندم نہ بھیجتی توآج ملک میں گندم کا بحران پیدا نہ ہوتا،وفاقی حکومت عوام کو بتائے کہ پنجاب،بلوچستان اور کے پی کے میں آٹے کا بحران کیوں ہے گندم کہا گئی۔اسماعیل راہو نے وفاقی وزراء کے بیانوں پر اپناردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کے پی کے میں نان بائی ہڑتال پر ہیں کیااس کی ذم داربھی سندھ حکومت ہی ۔وفاقی وزرا بیان بازی کی بجائے بحران کوختم کرنے پر کام کریں۔انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ،سکھر اور ٹھٹھہ میں گندم کا ذخیرہ موجود ہے،منگل یا بدھ کو سندھ میں آٹے کی قیمتوں کا مسئلہ حل ہوجائے گا،انہوں نے کہاکہ سندھ میں دو ماہ بعد گندم کی کٹائی شروع ہوجائیگی۔گندم کی سپلا ئی کا کام کرلیں گے۔ابھی بھی سندھ کے پاس 350 لاکھ ٹن گندم کاذخیرہ موجودہے۔کراچی میں آٹے کی سپلائی میں تھوڑا بحران آیا۔اسماعیل راہو نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو بحرانستان بنادیا ہے۔حکومت اپنی پالیسیان بہتر کرنے کی بجائے اتحادیوں کو منانے میں مصروف ہے۔عوام کی کوئی فکر نہیں ہے،ملک میں آٹے کامصنوعی بحران کی ذمہ داروفاق ہے۔سندہ حکومت ذخیرہ اندوزی اورمنافع خوروں کے خلاف کارروائی کررہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں