0

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا ،پی ٹی آئی حکومت آنے پر سب سے زیادہ خوشی منانیوالا بھی حکومت کیخلاف بولنے لگا ،نام بارے جان کر آپ یقین نہیں کرینگے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئر تجزیہ کار حسن نثار نے کہا ہے کہ غریب کی بڑی عیاشی دو چوپڑی روٹیاں ہیں، آٹا ہاتھ سے نکل جائے تو شرم کا گھاٹا شروع ہوجاتا ہے، ایوب خان کے دور میں آٹے کی قیمت فی من 20 روپے تھی، جبکہ آج ایک کلو 170روپے ہے، یہ ہماری ترقی ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں آٹے کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوب خان کے دور میں آٹے کی قیمت فی من 20 روپے تھی، ایک من میں چالیس سیر ہوتے ہیں جو کلو سے زیادہ ہوتا ہے۔جبکہ آج صرف ایک کلو 170روپے ہے، یہ ہماری ترقی ہے۔ ساری تباہی آبادی اور مہنگائی دوچیزوں کی وجہ سے آئی ہے۔ 22 کروڑ آبادی کا مطلب یہ ہے کہ 44 کروڑ کشکول، لیکن یہ بڑھتی جارہی ہے برصغیر کا بڑا مسئلہ بھوک ہے۔ یہ ایسا خطہ ہے جہاں دو چوپڑی روٹیاں عیاشی ہیں۔حسن نثار نے کہا کہ میں آصف زرداری ، نوازشریف سے پوچھوں کہ تم کیا کرگئے ہو؟ یا ثانیہ نشتراور موجودہ حکومت سے پوچھوں کیا کررہے ہو؟ دوسری جانب ملک بھر میں منہگائی کی چکی میں پسی عوام کیلئے روٹی بھی مہنگی ہوگئی، جبکہ حکومت تاحال آٹے کی قیمتیں مقرر کرنے اور آٹے کی سپلائی مارکیٹ میں یقینی بنانے میں ناکام ہے۔نانبائیوں نے 170 گرام روٹی کی قیمت 15 روپے اور آٹے کی سپلائی یقینی بنانے کا مطالبہ کردیا ہے۔ انجمن نانبائی ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کی پیر سے پشاورمیں ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ کوئٹہ 20 کلو آٹے کی بوری 1120 روپے کی ہوگئی۔ پشاورمیں 20 کلو فائن آٹے کی قیمت 1250 روپے اور اسلام آباد میں 15کلو فائن آٹا 880 روپے کا ہو گیا ہے۔ لاہور میں بھی چکی مالکان 70 روپے فی کلو آٹا فروخت کرنے پراڑ گئے۔10کلو آٹے کے تھیلے پر 250 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں