0

نوشی سے زیادہ خطرناک عادت کیا ہے؟خبر پڑھ کر آپ کےبھی ہوش اُڑ جائینگے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سگریٹ نوشی جان کی دشمن ہے ہی لیکن اس سے زیادہ خطرناک عادت کیا ہے، جو جلد موت کے منہ میں لے جانے کا باعث بن سکتی ہے۔محققین کا ماننا ہے کہ سگریٹ نوشی کے ساتھ تنہائی بھی زندگی کو مختصر کر دینے میں کردار ادا کرتی ہے اور اس وقت لوگوں کی صحت سے متعلق بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے، بالخصوص بڑی عمر کے افراد میں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سانڈیاگو اسکول آف میڈیسن کے محققین نے زائد عمر کے افراد جو اب سینئر سٹیزن یا ریٹائرمنٹ برادری میں شامل ہونے والے ہیں ان کی شخصیت پر اکیلے رہنے کے اثرات پر تحقیق کی۔ایجنگ اینڈ مینٹل ہیلتھ جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے جو لوگ بڑھتی عمر کے ساتھ تنہائی پسند ہوتے ہیں، ان پر ماحولیاتی اور ذاتی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔وزن کم کرنے کیلئے کی گئی سرجری کینسر کا باعث بڑھتی عمر کے ساتھ ماضی میں وقت ضائع کرنے کی پشیمانی اور غیر معقول سماجی صلاحیتں تنہائی پسندی تک پہنچانے کے عوامل ہیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایک محقق الجینڈرا پریڈیز کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے اپنے شریک حیات کو کھونے کے بارے میں، اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں کے جانے کے غم کو تنہائی کے شکار ہونے کی وجہ بتایا۔انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ افراد نے نشاندہی کی کہ بڑھتی عمر میں بننے والے نئے دوست ان گزرے ہوئے دوستوں کا مداوا نہیں کر سکتے جن کے ساتھ آپ نے اپنا بچپن اور جوانی گزاری ہو۔ذیابیطس اور موٹاپا، خوراک اور طرززندگی میں تبدیلی ضروری، ماہریناس کے علاہ یہ بات بھی سامنے آئی کی بڑھتی عمر میں کوئی کام ذمے نہ ہونے کی وجہ سے بھی تنہائی انسان کو گھیر لیتی ہے۔محقق الجینڈرا پریڈیز کہتے ہیں کہ ان کی تحقیق میں کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ کسی کام سے منسلک نہ ہونے یا زیادہ پر امید نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنا دھیان کھو دیتے ہیں اور اکیلا رہنا شروع کردیتے ہیں۔ریسرچ کرنے والی اس ٹیم نے یہ بات بھی اخذ کی کہ حکمت بشمول دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے کا جذبہ آپ کا بڑھتی عمر میں اکیلا پن دور کرسکتی ہے۔کیا سگریٹ نوشی ذہنی دباؤ کو بڑھاتی ہے؟اس کے علاوہ ایک اپنے آپ کو بڑی عمر کا مان لینا اور دن میں کچھ دیر اکیلے رہنے کی عادت ڈالنے سے مکمل تنہائی کی عادت سے بچا جاسکتا ہے کیونکہ کچھ دیر اکیلے رہنے کے بعد انسان کو اپنے کسی سے ملنے کی خواہش ضرور پیدا ہوتی ہے۔محققین نے اپنی ریسرچ کے لیے 67 سے 92 سال کے 30 افراد کو سوالنامہ دیا اور ان سے ان کی موجودہ زندگی کے بارے میں سوالات کیے اور ان کے جوابات کی مدد سے نتیجہ اخذ کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں