0

آرڈر تاخیر سے پہنچانے پر ڈلیوری بوائے کی بارش میں روتی تصویر وائرل، شہری آبدیدہ، خبر پڑھ کر آپ کی بھی آنکھیں نم ہوجائینگی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سوشل میڈیا کی مشہور ویب سائٹ فیس بک پر تصویر وائرل ہو رہی ہے، وائرل تصویر نے سوشل میڈیا صارفین کے دل پگھلا دیئے ہیں۔ تصویر میں’ڈلیوری بوائے‘ کو دیکھا جا سکتا ہے جو سڑک کنارے رو رہا ہے۔ رونے کی وجہ کھانا دیر سے ڈلیور کرنا ہے اور کھانا منگوانے والے نے آرڈر کینسل کر دیا، تیز بارش کی وجہ سے کسٹمر نے کھانا لینے سے انکار کیا تو بل اسکی تنخواہ سے کٹے گا۔ کھانا 3800 روپے کا تھا اور تنخواہ صرف دس ہزار روپے تھی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے ’’گلف نیوز‘‘ کے مطابق فیس بک پر متعدد لوگوں نے اس ڈلیوری بوائے کی تصاویر شیئر کی، ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایک نوجوان کونے میں کھڑا رو رہا ہے سسکیاں لے رہا ہے پوچھنے پر معلوم ہوا ایک رائیڈر ہے اور ایک Fast Food ریسٹورانٹ میں Home Delivery کے لیے کام کرتا ہے۔فیس بک پوسٹ پر لکھا تھا کہ رائیڈر کی طرف سے کھانا پہنچانے گیا تھا واپسی پر سردی اور بارش کے موسم کی وجہ سے لڑکا شدید کانپے جا رہا تھا میرے پوچھنے پر اس نے بس اتنا کہا کچھ نہیں ہوا ہے سر۔ میں نے اس سے ریکوئسٹ کی کہ بھائی جب تک بارش نہیں رکتی آپ تھوڑی دیر میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھ جاؤ اور بعد میں آرام سے پوچھا کہ بھائی ہوا کیا ہے کچھ تو بتائیں۔پوسٹ میں مزید لکھا تھا کہ میرے اصرار کرنے پہ اس نے بتایا کہ بارش کی وجہ سے لیٹ پہنچا ہوں اور اب کسمٹر نے کھانا لینے سے انکار کر دیا ہے۔ میں نے کہا تو اس میں تو پریشانی والی کوئی بات نہیں تو اس نے کہا سر اس کھانے کے پیسے ابھی میری تنخواہ میں سے کٹنے ہیں، معلوم پڑا کہ کھانا 3800 روپے کا تھا اور اس کی سیلری دس ہزار روپے ہے۔علی شیرازی نے لکھا کہ خیر سب یہاں پوسٹ کرنے کا مقصد تھا کہ اگرہم بارش میں ایسے موسم میں کچھ آرڈر کرتے ہیں تو ہمیں ان لوگوں کا احساس کرنا چاہیے یہ لوگ بھی انسان ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ محنت کرتے ہیں ہمیں انکی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اگر کوئی ایسے موسم میں اتنی دور سے کھانا دینے آ جاتا ہے تو اس کو ٹپ کے طور پر کچھ پیسے دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ میں نے یہ چیزیں بہت قریب سے دیکھی ہیں۔ تنخواہ بس یہی کوئی 8 ہزار کے قریب ہوتی ہے۔ ادارہ ان کو یہی بتاتا ہے کہ 8 ہزار یا 7 ہزار تنخواہ باقی آپ کو ٹپ ملاکرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے میں بارش میں کھانے لینے جا رہا تھا تو میں نے لڑکے سے کھانا لے لیا تھا اور پیسے اس کو ادا کر دیے تھے، اس لڑکے کے لیے آسانی پیدا کر دی گئی ہے لیکن اس بھائی جیسے کئی سفید پوش لوگ مجبور ہیں ہمیں احساس کرنا چاہیے۔محبتیں اور آسانیاں بانٹیے ہمارے پاس وقت بہت کم ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں