0

شرم تم کو مگر نہیں آتی

آپ نے وزیر مملکت شہریار آفریدی کی پریس کانفرنس دیکھی اور سنی ہوگی اور پھر اسمبلی میں دیا گیا بیان بھی آپ سب کی نظروں سے گذرا ہوگا۔ ممکن ہے کہ الفاظ اور جملے اس سےکچھ مختلف ہوں، لیکن خلاصہ اس سے زیادہ مختلف نظر نہیں آئے گا کہ جان صرف اللہ کو دینی ہے۔ رانا ثناء کواگر ’’گھیرنا‘‘ ہی تھا تو بے شمار جینوئن کیسز ہوسکتے تھے۔ سوال پیدا ہوا کہ اگر یہی کچھ میڈیا کے سامنے آکر بیان کرنا تھا تو اس سے بہتر نہ تھا کہ خاموش رہ لیا جاتا؟ بہت ہی ضروری تھا تو کسی پریس ریلیز کے ذریعے چند نکات میڈیا کو جاری کرنا بھی کافی۔
جب شرمندگی حد سے بڑھنے لگی تو وزیراعظم کو بنفس نفیس اعلان کرنا پڑا کہ اس گرفتاری سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ گویا ملبہ اے این ایف کے سر ڈال دیا گیا۔ حالانکہ صرف دو دن پہلے پی ٹی آئی اس پر خوشی کے شادیانے بجارہی تھی۔ ٹویٹر پر ہر طرف دھوم مچی تھی۔ یہ باور کروایا جارہا تھا کہ پہلی بار طاقتوروں کو جکڑا جارہا ہے۔ اب مزید بہت سے طاقتور گرفت میں آنے والے ہیں۔ بہت سے لوگ تو کچھ اہم شخصیات کے نام بھی لیتے پائے گئے کہ وہ بھی اس گروہ کا حصہ ہیں اور ان کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے کو ہے۔ لیکن اب تک کی تفصیل کا خلاصہ اس سے بڑھ کر نہیں کہ کھودا پہاڑ تو نکلا چوہا اور وہ بھی مرا ہوا!
کیس کا انجام ابھی نہیں ہوا، ممکن ہے واقعی ثبوت موجود ہوں، اس پر حتمی رائے دینا ممکن نہیں۔ لیکن ایک بار پھر عرض کروں جس انداز سے اس کیس کو ہینڈل کیا گیا، وہ بہت سے سوالات ضرور کھڑے کرگیا ہے ۔ اب اگر اس کا انجام بھی وہی ہوا جو شہاب الدین اور حنیف عباسی کیسز کے ساتھ ہوا تو اپوزیشن کا یہ بیانیہ مزید مضبوط ہوکر سامنے آئے گا کہ ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جبکہ حکومت اخلاقی لحاظ سے مزید دباؤ کا شکار ہوگی۔ بے شمار شواہد ہونے کے حکومتی دعوے کےباوجود راناثناءاللہ کو ضمانت مل جاتی ہے،اور پھر تما م توپوں کے رخ وزیر موصوف کی طرف کر دیئے جاتے ہیں کیونکہ جان تو آخر اللہ کو دینی ہے۔اسمبلی میں رانا ثناء اللہ قران ہاتھ میں پکڑ کر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے تحریک انصاف برسراقتدار ہے۔ حکومت احتجاج اور مطالبہ نہ کرے بلکہ اگر ثبوت لانا چاہتے ہیں تو موجودہ حکومت ماڈل ٹائون واقعہ کی مزیدتحقیقات کرسکتی ہے ہم تیار ہیں۔ میں نے اللہ کو حاضر ناظر جان کر بیان دیا کہ غلط کہہ رہا ہوں تو مجھ پر اللہ قہر اورغضب نازل ہو یہی قسم شہریار آفریدی اٹھائیں۔25,30 سالہ سیاسی زندگی میں کسی منشیات فروش کو نہیں ملا۔ کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھا، کسی کی بھول کر بھی سفارش نہیں کی اگر غلط کہہ رہا ہوں تو اللہ کا قہر نازل ہو، مجھ سے کوئی تفتیش ہی نہیں ہوئی۔ جب تفتیش ہی نہیں ہوئی ٹرائل کیسے شروع ہوگا۔ اے این ایف نے کوئی تحقیقات نہیں کی۔16گھنٹے کوئی مجھ سے نہیں ملا۔ کہا گیا کہ افغانستان سے فیصل آباد تک نیٹ ورک ہے اور میں منشیات لاہور پہنچاتا ہوں جہاں سے دنیا بھر جاتی ہے۔شہریار آفریدی نے کہاکہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں نے رانا ثناء اللہ کے کیس کے حوالے سے کوئی قسم نہیں اٹھائی۔رانا ثناء اللہ کو چیلنج کرتا ہوں ٹرائل میں پیش ہوں۔عدالت میں مقابلہ کریں ، آئیں ، بائیں ، شائیں نہ ماریں۔ حکومت اور وزارت ان کیخلاف کیس سے نہیں بھاگے گی، آخری حد تک جائیں گے، ہماری نسلوں کا معاملہ ہے۔ رانا ثناء اللہ سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگایا ہے۔ رانا ثناء اللہ ہمت کریں ، حوصلہ پیدا کریں، بے گناہی ثابت کریں۔راناثناء اللہ خود اپنے کاروبار کے حوالے سے وکالت اور پراپرٹی تو بتاتے ہیں مگر آج تک ہائیکورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک ایک کیس نہیں لڑا۔2013ء کے بعد ان کی جائیدادوں میں 100 ملین روپے کا اضافہ ہوگیا۔ اس ساری صورتحال کے پیش نطر یہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے کہ جب دو جہلا قرآن پر قسمیں کھا کر اپنی بے گناہی کا چرچا کریں تو سمجھ لیں کہ دونوں چور ہیں۔ویسے پردہ اُٹھنا شروع ہو چکا ہے۔پردہ اٹھانے والے برقی بٹن پر اُنگلی رکھی جا چکی ہے۔ تاہم پردہ اُٹھنے میں قدرے وقت بھی لگتا ہے تو انگلی کا دباؤ پڑتے ہی بھاری اور دبیز پردہ اُٹھنا شروع ہو جائے گا۔
آخر میں اتنی گزارش ہے کہ مالِ حرام سے ایسے ہی بچنا چاہئیے جیسے سانپ سے بچا جاتا ہے۔ اس لیے کہ مالِ حرام نسل در نسل چلتا ہے اور کینسر کی طرح اولادوں میں پھیل کر نیکی اور شرافت کے پودوں کو آکاس بیل کی طرح جکڑ کر ضمیر کو مُردہ کر دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں